
گزشتہ اسمبلی انتخابات میں تیجسوی نے دس لاکھ سرکاری ملازمتوں کے وعدے سے نوجوانوں میں جوش پیدا کیا تھا۔ اس بار بھی وہ اسی ایشو کو مرکز بنا رہے ہیں۔ بے روزگاری ملک گیر مسئلہ بن چکی ہے، اور بہار کے نوجوان ابھی پٹنہ میں ہونے والے لاٹھی چارج کو نہیں بھولے۔ گیارہ سال سے مرکز میں بی جے پی اور بیس سال سے ریاست میں نتیش حکومت کے باوجود روزگار کی صورتحال میں بہتری نہ آنے سے نوجوانوں کا اعتماد ٹوٹ چکا ہے۔
تیجسوی نے اس بار پپو یادو اور کنہیا کمار جیسے لیڈروں کو ساتھ جوڑ کر اپنی پرانی غلطی سدھارنے کی کوشش کی ہے۔ پپو یادو عوامی سطح پر مقبول ہیں، جبکہ کنہیا کمار نوجوانوں میں اثر رکھتے ہیں۔ اس اتحاد سے مہاگٹھ بندھن کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو بہار میں آر جے ڈی-کانگریس اتحاد کے حق میں فضا بنتی دکھائی دے رہی ہے۔ مگر سیاست میں کچھ بھی یقینی نہیں۔ بی جے پی نے اپنے تمام آزمودہ ہتھکنڈے پھر سے آزمانے شروع کر دیے ہیں۔ ایسے میں بہار کا الیکشن صرف ایک ریاستی جنگ نہیں بلکہ قومی سیاست کے توازن کا امتحان بن چکا ہے۔





