5 ریاستوں کے انتخابی نتائج برآمد ہونے کے بعد سیاسی ہلچل بڑھی ہوئی ہے۔ سبھی ریاستوں میں حکومت سازی کی کوششیں شروع ہو چکی ہیں۔ اس درمیان راہل گاندھی کے حالیہ بیانات نے ملک کی سیاست میں ’ووٹ چوری‘ کی بحث کو ایک بار پھر رفتار دے دی ہے۔ خاص طور پر آسام اور مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے نتائج سے وہ بہت فکر مند نظر آ رہے ہیں۔ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے ایک بیان کل دیا تھا اور ایک بیان آج دیا ہے، جس میں بی جے پی پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوال اٹھایا ہے۔
راہل گاندھی نے آج جاری اپنے بیان میں کہا کہ ’’کانگریس کے اندر اور دیگر پارٹیوں میں کچھ لوگ ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی شکست پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں، لیکن انہیں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ آسام اور بنگال کے عوامی مینڈیٹ کی ’چوری‘ دراصل بی جے پی کی جانب سے ہندوستانی جمہوریت کو کمزور کرنے کی ایک بڑی کوشش ہے۔‘‘ کانگریس رکن پارلیمنٹ نے زور دے کر کہا کہ ہمیں چھوٹے چھوٹے سیاسی مفادات کو ایک طرف رکھنا ہوگا کیونکہ یہ معاملہ کسی ایک پارٹی کا نہیں بلکہ پورے ہندوستان کا ہے۔
ایک روز قبل بھی راہل گاندھی نے ایک سخت بیان دیتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ آسام اور مغربی بنگال میں انتخابات بی جے پی نے الیکشن کمیشن کی مدد سے ’چوری‘ کیے ہیں۔ انہوں نے مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے اس موقف کی تائید کی تھی، جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ریاست میں 100 سے زیادہ سیٹیں لوٹ لی گئی ہیں۔
آسام اور مغربی بنگال کا نتیجہ برآمد ہونے کے بعد 4 مئی کو راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ یہ کوئی نیا طریقہ نہیں ہے بلکہ بی جے پی پہلے بھی مختلف ریاستوں میں اسی طرح کی حکمت عملی اختیار کر چکی ہے۔ انہوں نے مدھیہ پردیش، ہریانہ، مہاراشٹر اور 2024 کے لوک سبھا انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ’طے شدہ کھیل‘ کا حصہ ہے۔ انہوں نے اپنے بیان کے آخر میں یہ بھی لکھا کہ ’چناؤ چوری، سنستھا چوری– اب اور چارہ ہی کیا ہے!‘ یعنی انتخابات کی چوری اور اداروں پر قبضہ اب ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔
راہل گاندھی کے ان بیانات سے سیاسی ماحول مزید گرم ہو گیا ہے۔ ایک طرف اپوزیشن پارٹیاں انتخابی شفافیت پر سوال اٹھا رہی ہیں، تو دوسری طرف بی جے پی اور الیکشن کمیشن کی جانب سے ان الزامات پر ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں یہ معاملہ قومی سطح پر بڑی سیاسی بحث کی شکل اختیار کر سکتا ہے، کیونکہ اس کا تعلق براہ راست جمہوری اداروں کی ساکھ اور انتخابی نظام کی شفافیت سے ہے۔
































