سپریم کورٹ کالجیم نے ایک اہم فیصلہ لیتے ہوئے کلکتہ ہائی کورٹ میں 9 نئے ججوں کی تقرری کو منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ عدالت میں زیر التوا مقدمات کو نمٹانے اور عدالتی نظام کو مضبوط کرنے کی سمت میں ایک اہم قدم مانا جا رہا ہے۔ کالجیم نے 11 اور 12 مئی کو ہوئی میٹنگ میں یہ تجویز منظور کی، جس کی صدارت چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) سوریہ کانت نے کی۔
کالجیم کی جانب سے جن 9 سینئر وکلاء کے ناموں کو منظوری دی گئی ہے، ان میں اندرنیل رائے، آریاک دت، اتاروپ بنرجی، سندیپ کمار دے، پارتھ پرتم رائے، سدیپ دیب، انوج سنگھ، ارجن رائے مکھرجی اور رشاد میڈورا شامل ہیں۔ ان تمام ناموں کو کلکتہ ہائی کورٹ کے جج کے عہدے پر تقرری کے لیے منظوری دی گئی ہے۔
واضح رے کہ ہندوستان کے عدالتی نظام میں ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری ایک طے شدہ اور مرحلہ وار طریقہ کار کے تحت کی جاتی ہے، جسے میمورنڈم آف پروسیجر (ایم او پی) کہا جاتا ہے۔ اس پورے عمل کا مقصد اہل اور تجربہ کار امیدواروں کے انتخاب کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔ اگر ججوں کی تقرری کے عمل کی بات کی جائے تو سب سے پہلے متعلقہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی جانب سے جج کی تقرری کی تجویز تیار کی جاتی ہے۔ اس کے بعد یہ تجویز ریاست کے وزیر اعلیٰ اور گورنر کے ذریعہ آگے بڑھائی جاتی ہے، پھر یہ فائل مرکزی حکومت (وزارت قانون) کے پاس پہنچتی ہے۔ اس کے بعد سپریم کورٹ کالجیم اس تجویز کا جائزہ لے کر حتمی سفارش کرتا ہے۔ آخر میں صدر جمہوریہ کی منظوری اور گزٹ نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد تقرری کو سرکاری طور پر نافذ سمجھا جاتا ہے۔ اس پورے عمل کا مقصد عدلیہ میں شفافیت برقرار رکھنا اور اہل ججوں کی تقرری کو یقینی بنانا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ کالجیم ملک کی عدلیہ میں ججوں کی تقرری اور تبادلے کے لیے ذمہ دار اعلیٰ ترین ادارہ ہے۔ اس میں ہندوستان کے چیف جسٹس کے ساتھ سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج شامل ہوتے ہیں۔ یہ نظام عدلیہ کی آزادی کو برقرار رکھنے اور اہل امیدواروں کے انتخاب کو یقینی بنانے کے لیے بنایا گیا ہے۔


































