کانگریس نے راجستھان کے اجمیر میں ایک نابالغ دلت بچی کے ساتھ پیش آئے عصمت دری کے معاملے پر ریاستی حکومت اور پولیس پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ کانگریس کے محکمہ درج فہرست ذات کے چیئرمین ڈاکٹر راجندر پال گوتم نے ایک پریس کانفرنس میں کچھ اہم حقائق سامنے رکھے اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
ڈاکٹر راجندر پال گوتم نے بتایا کہ جولائی 2024 میں اجمیر کی ایک ڈیری پر دودھ لینے گئی 15 سالہ بچی کے ساتھ مختلف دنوں میں زیادتی کی گئی۔ ملزمان نے بچی کو دھمکی دی کہ اگر اس نے کسی کو بتایا تو اس کے پورے خاندان کو قتل کر دیا جائے گا۔ خوف کے باعث بچی نے یہ بات چھپائے رکھی، تاہم بعد میں حاملہ ہونے پر اس نے اپنی بہن کو بتایا، جس کے بعد معاملہ خاندان کے علم میں آیا۔
کانگریس لیڈر نے میڈیا کو آگے کی جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ بچی کو علاج کے لیے نئی دہلی لایا گیا، جہاں زیرو ایف آئی آر درج کی گئی اور بعد میں کیس اجمیر منتقل کر دیا گیا۔ ایف آئی آر درج ہونے کے تقریباً 20 دن بعد عدالت میں بچی کا بیان ریکارڈ کیا گیا۔ ڈاکٹر گوتم کے مطابق کیس میں شدید لاپروائی برتی گئی اور 8 ماہ گزرنے کے باوجود کسی ملزم کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ بعد ازاں 3 میں سے صرف ایک ملزم کو گرفتار کیا گیا جبکہ 2 کو تھانے بلا کر چھوڑ دیا گیا۔
راجندر پال گوتم کا کہنا ہے کہ کہ 17 مارچ 2026 کو ٹرائل کے دوران بیان درج ہونا تھا، لیکن اس سے ایک دن قبل ملزمین کے اہل خانہ نے متاثرہ پر کیس واپس لینے کے لیے دباؤ بنایا۔ انکار کرنے پر بااثر افراد نے بچی کے والد، چچا اور چچی پر کلہاڑی سے قاتلانہ حملہ کیا، جس میں 3 افراد شدید زخمی ہوئے اور حملہ آور انہیں مردہ سمجھ کر فرار ہو گئے۔ الزام ہے کہ ملزمین نے دباؤ بنانے کے لیے متاثرہ خاندان کے خلاف کراس کیس بھی درج کرا دیا، اور پھر پولیس نے اپنی کلوزر رپورٹ میں متاثرہ خاندان کے الزامات کو جھوٹا قرار دے دیا۔ اس معاملہ میں کانگریس نے بی جے پی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ’’ملک بھر میں دلت استحصال کے 76 فیصد کیسز بی جے پی حکمراں 5 ریاستوں اتر پردیش، مدھیہ پردیش، راجستھان، بہار اور مہاراشٹر میں ہیں۔‘‘
ڈاکٹر راجندر پال کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ ’درج فہرست ذات و درج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) ایکٹ، 1989‘ کے تحت آتا ہے، لیکن اس کے متعلقہ سیکشنز کا اطلاق نہیں کیا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس افسران نے بھی اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی۔ اس معاملہ میں انہوں نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ بچی اور اس کے اہل خانہ کو فوری سیکورٹی فراہم کی جائے، مناسب معاوضہ دیا جائے اور جن پولیس افسران نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے، ان کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کیا جائے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔



































