
تیجسوی یادو نے اپنے خطاب میں کہا کہ این ڈی اے حکومت نے بہار کو ترقی کے بجائے پسماندگی کی راہ پر دھکیل دیا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جب این ڈی اے کے رہنما آپ کے دروازے پر ووٹ مانگنے آئیں تو ان سے یہ ضرور پوچھیں کہ ’’بہار سب سے غریب ریاست کیوں ہے؟ بہار میں خواتین غیر محفوظ کیوں ہیں؟ یہاں جرائم اور بدعنوانی کیوں بڑھتے جا رہے ہیں؟ اور نوجوانوں کو روزگار کے مواقع کیوں نہیں ملتے جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہورہی ہے؟‘‘
تعلیم کے شعبے پر حملہ کرتے ہوئے تیجسوی یادو نے کہا کہ 20 سال قبل پٹنہ یونیورسٹی میں 70 ووکیشنل کورسز چلتے تھے، لیکن این ڈی اے کے دو دہائیوں کے دور اقتدار میں ان میں سے 56 کورسز بند کر دیے گئے۔ ان کے مطابق، تعلیم دشمن پالیسیوں کی وجہ سے بہار کے سب سے قدیم اور معزز ادارے کو بربادی کی طرف دھکیل دیا گیا ہے۔






