چیف الیکٹورل افسر رہے منوج اگروال بی جے پی حکومت میں چیف سکریٹری بنائے گئے

AhmadJunaidJ&K News urduMay 12, 2026361 Views


مغربی بنگال حکومت نے اسمبلی انتخابات کے دوران ریاست کے چیف الیکٹورل افسر رہے منوج کمار اگروال کو ریاست کا چیف سکریٹری بنایا ہے۔ اس سے پہلے ایس آئی آر مہم کے لیے الیکشن کمیشن کے اسپیشل آبزرور رہے سبرت گپتا کو بھی نو منتخب وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری کا صلاح کار بنایا گیا تھا۔ اپوزیشن نے ان تقرریوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

منوج اگروال کولکاتہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے۔(تصویر: پی ٹی آئی)

نئی دہلی:بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والی مغربی بنگال حکومت نے سوموار (11 مئی) کو ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) منوج کمار اگروال کو چیف سکریٹری مقرر کیا ہے۔

اس سے پہلے سنیچر (9 مئی) کو حال ہی میں مکمل ہوئے اسمبلی انتخابات سے پہلے کی گئی ایس آئ آرمہم کے لیے الیکشن کمیشن کے اسپیشل آبزرور رہے ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر سبرت گپتا کو بھی مغربی بنگال کے نو منتخب وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری کا مشیر مقرر کیا گیا تھا۔

پہلے سبرت گپتا اور اب صرف دو دن سے بھی کم وقت میں منوج کمار اگروال کی تقرری کو لے کر کئی سوال اٹھ رہے ہیں، کیونکہ مغربی بنگال میں ایس آئی آر کافی متنازعہ عمل رہا ہے اور اس کے نتیجے میں لاکھوں لوگ اس بار اپنے حق رائے دہی سے محروم ہوئے ہیں۔ اسی وجہ سے الیکشن کمیشن کو شدید تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔

سوموار کو جاری ریاستی حکومت کے نوٹیفکیشن کے مطابق، گورنر آر این روی نے 1990 بیچ کے آئی اے ایس افسر منوج کمار اگروال، چیف الیکٹورل آفیسر، مغربی بنگال اورسابقہ ایڈیشنل چیف سکریٹری، داخلہ و پہاڑی امور (انتخابات) محکمے کو مغربی بنگال کا چیف سکریٹری مقرر کیا ہے۔

سرکاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے،’گورنر جناب منوج کمار اگروال، آئی اے ایس (مغربی بنگال: 1990)، چیف الیکٹورل آفیسر، مغربی بنگال اور سابقہ ایڈیشنل چیف سکریٹری، داخلہ و پہاڑی امور (انتخابات) محکمہ، حکومت مغربی بنگال کو اگلے احکامات تک مغربی بنگال حکومت کا چیف سیکرٹری مقرر کرتے ہیں۔ یہ تقرری عوامی خدمت کے مفاد میں کی جا رہی ہے۔ ‘

واضح ہو کہ 9 مئی کو سوویندو ادھیکاری کی حلف برداری کے چند گھنٹوں بعد ہی گپتا کو وزیراعلیٰ کا مشیر مقرر کر دیا گیا تھا۔ اس سے دو دن پہلے ہی الیکشن کمیشن نے انہیں ایس آئی آر عمل سے فارغ کیا تھا۔

آئی آئی ٹی کانپور کے سابق طالبعلم اگروال کو ریاستی انتظامیہ کے سب سے تجربہ کار بیوروکریٹس میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ چیف الیکٹورل آفیسر بننے سے پہلے بھی کئی اہم عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں متنازعہ ایس آئی آر عمل اور مغربی بنگال کے ہائی پروفائل اسمبلی انتخابات کی نگرانی کی ذمہ داری سنبھالی تھی۔

دی نیو انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق، ان کے بیچ کے کئی افسران، جن میں وویک کمار، ہردیش موہن اور وویک بھاردواج شامل ہیں، اب بھی سروس میں ہیں، جبکہ کئی اہم ذمہ داریاں سنبھالنے والے اگروال اب بیوروکریسی کے اعلیٰ ترین عہدے کی طرف بڑھ گئے ہیں۔

غور طلب ہے کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں اس بار غیرجانبداری پر کئی سوال اٹھے، جس میں ایس آئی آر کے باعث شدید الزامات اور عوامی غصے کا مشاہدہ کیا گیا۔ اس عمل کے دوران تقریباً 91 لاکھ نام ووٹر لسٹ سے نکالے گئے اور کم از کم 27 لاکھ ووٹرز اب بھی غیر یقینی صورتحال میں ہیں، جو اپنے ووٹ کے حق کے فیصلے کے منتظر ہیں۔ اس بار انہیں حق رائے دہی سے محروم کر دیا گیا ہے۔

منوج کمار اگروال کی تقرری کے دفاع میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں بی جے پی نے ترنمول کانگریس کو نشانے پر لیتے ہوئے کہا،’سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے برعکس، جنہوں نے درجنوں افسران کو ترقی دے کر آئی اے ایس قواعد کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے بیوروکریسی کو کرپٹ بنایا تھا، مغربی بنگال کی بی جے پی حکومت نے ملک کے قوانین کے وقار کو بحال کرنے کے اپنے وعدے کو پورا کرتے ہوئے ریاست میں تعینات سب سے سینئر آئی اے ایس افسر جناب منوج اگروال کو مغربی بنگال کا چیف سکریٹری مقرر کیا ہے۔‘

قابل ذکر ہے کہ انتخابات سے قبل ترنمول کانگریس حکومت نے جولائی میں ریٹائر ہونے والے اگروال پر ریاست میں ایس آئی آر عمل کی نگرانی کے حوالے سے تنقید کی تھی۔ ان پر جانبداری کا الزام لگاتے ہوئے انہیں بی جے پی کا’وفادار‘قرار دیا  گیاتھا۔

پارٹی نے 2009 میں افسر کے خلاف سی بی آئی انکوائری کا معاملہ بھی اٹھایا تھا، جس میں ان پر بدعنوانی کی روک تھام کے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 1.46 کروڑ روپے کے غیر متناسب اثاثے جمع کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔

منوج اگروال کی حالیہ تقرری نے اب ایک بار پھر سیاسی حلقوں میں سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ ترنمول کانگریس کے کئی رہنماؤں سمیت کانگریس نے بھی اس پر سخت تنقید کی ہے۔

ٹی ایم سی کی راجیہ سبھا رکن ساگریکا گھوش نے سوشل میڈیا پر لکھا،’مغربی بنگال کے چیف الیکشن آفیسر (سی ای او) منوج اگروال اب بنگال کے چیف سکریٹری بنیں گے۔ مبینہ’غیر جانبدار امپائر ‘کو بنگال میں بی جے پی حکومت کا اعلیٰ بیوروکریٹ بننے کا انعام دیا گیا ہے۔ کیا اب بھی کوئی سنجیدگی سے مانتا ہے کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات آزاد اور منصفانہ تھے؟ ‘

ترنمول کانگریس کے رہنما ساکیت گوکھلے نے بھی منوج اگروال کی تقرری پر ردعمل دیتے ہوئے کہا،’ بی جے پی اور الیکشن کمیشن اب کھلے عام انتخاب چوری کی بات کر رہے ہیں۔ کیا عدالتیں اندھی ہیں یا پھر ملی بھگت میں شامل ہیں؟ یہ بے شرمی کی انتہا ہے۔‘

وہیں کانگریس رہنما جئے رام رمیش نے ایکس پر لکھا،’یہ تقرریاں الیکشن کمیشن اور بی جے پی کے درمیان کھلی ملی بھگت اور سازباز کو ظاہر کرتی ہیں۔‘

جئے رام رمیش نے مزید لکھا،’بی جے پی کی قیادت والی مغربی بنگال حکومت نے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کی نگرانی کرنے والے اس وقت کے چیف الیکشن آفیسر منوج اگروال (آئی اے ایس 1990 بیچ) کو ریاست کا نیا چیف سکریٹری مقرر کیا ہے۔ اسی طرح ایس آئی آر اور ووٹر لسٹ سے نام حذف کرنے کے عمل کی نگرانی کرنے والے الیکشن کمیشن کے اسپیشل رول آبزرور سبرت گپتا (آئی اے ایس 1990 بیچ) کو مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری کا چیف ایڈوائزر مقرر کیا گیا ہے۔‘

رمیش نے مزید کہا کہ ان تقرریوں سے الیکشن کمیشن اور بی جے پی کے درمیان کھلی ملی بھگت اور سازباز ظاہر ہوتی ہے۔ اب اس گٹھ جوڑ کو چھپانے یا ڈھانپنے کی کوشش بھی نہیں کی جا رہی۔ یہ تقرریاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ الیکشن کمیشن غیر جانبدار نہیں تھا اور اس نے خاص طور پر بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کے لیے کام کیا۔ پورے صوبے میں ایسے انتخابات کرائے گئے جن میں 27 لاکھ افراد کو ووٹ ڈالنے سے محروم کر دیا گیا۔ یہ سب الیکشن کمیشن کی جانب سے انتہائی منظم طریقے سے کیا گیا تاکہ بی جے پی کو انتخابی فائدہ ہو ۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...