
شیخ رجب علی اور ان کے ساتھی مظلوموں کی مدد اور کمزوروں کی حمایت کے لیے ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔ جلد ہی ان کی بہادری اور انصاف پسندی کے چرچے پورے علاقے میں پھیل گئے اور وہ عوام کے ایک محبوب رہنما بن گئے۔ ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی خبریں انگریز حکام تک بھی پہنچنے لگیں، جس کے بعد ان پر کڑی نظر رکھی جانے لگی۔
1857 میں میرٹھ سے بغاوت کی چنگاری بھڑکی تو اعظم گڑھ میں بھی انگریز حکومت کے خلاف غصہ کھل کر سامنے آنے لگا۔ 20 جون کو حالات اتنے خراب ہوگئے کہ چند افسران کو چھوڑ کر تقریباً تمام انگریز اعظم گڑھ سے فرار ہوکر غازی پور چلے گئے۔ اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شیخ رجب علی اور ان کے ساتھیوں نے انگریزی گوداموں اور فوجی کیمپوں پر حملے شروع کردیے۔ ان کارروائیوں نے کمپنی حکومت کو شدید پریشانی میں مبتلا کردیا۔





