پڑھائی چھوڑ کر گھر لوٹنے کو مجبور ہو رہے ہیں طلبہ

AhmadJunaidJ&K News urduApril 4, 2026358 Views


مغربی ایشیا میں جاری جنگ سے پیدا ہونے والا توانائی بحران کئی شہروں کو متاثر کر رہا ہے۔ انہی میں ایک الہ آباد بھی ہے، جہاں مسابقتی امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ رسوئی گیس کی قلت اور مہنگائی سے جوجھ رہے ہیں۔ خوراک جیسی بنیادی ضرورت بھی بحران کی زد میں ہے، جس کے باعث ان کی پڑھائی، ذہنی حالت اور مستقبل پر شدیداثر پڑ رہا ہے۔

دیہی علاقوں سے شہر میں آ کر تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کا کہنا ہے کہ یا تو گیس مل نہیں رہی، اور اگر مل بھی رہی ہے تو اتنی مہنگی ہے کہ ان کے بجٹ سے باہر ہے۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

اسرائیل-امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ، جس کی زد میں اب مغربی ایشیا کے کئی ممالک ہیں، نہ صرف معیشت بلکہ نوجوانوں کے مستقبل کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ اس کے اثرات اتر پردیش کے الہ آباد (پریاگ راج) جیسے شہروں میں واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں، جو طویل عرصے سے مسابقتی امتحانات کی تیاری کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔

شام کے وقت جن سڑکوں، بازاروں اور سبزی منڈیوں میں کبھی طلبہ کی چہل پہل ہوا کرتی تھی، اب وہاں ایک مختلف منظر نظر آتا ہے۔ کئی طلبہ کندھوں پر گیس سلنڈر اٹھائے ادھر اُدھر بھٹکتے دکھائی دیتے ہیں، اور ان کے چہروں پر تھکن اور بےیقینی کی کیفیت صاف جھلکتی ہے۔

الہ آباد میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے آنے والے زیادہ تر طلبہ دیہی پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ اپنے ساتھ گھر سے آٹا، چاول اور دال لاتے ہیں اور کرایہ کے کمروں میں خود کھانا بنا کر گزر بسر کرتے ہیں۔ ان کے روزمرہ کا یہ پورا ڈھانچہ چھوٹے سلنڈروں میں بھری جانے والی گیس پر منحصر کرتا ہے، لیکن موجودہ حالات میں یہ نظام درہم برہم نظر آتا ہے۔

خوردہ گیس کی سپلائی تقریباً بند ہو چکی ہے۔ جو گیس پہلے آسانی سے مل جاتی تھی، اب یا تو دستیاب نہیں، اور اگر ملتی بھی ہے تو بلیک میں۔ قیمتیں 250 سے 350 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہیں، جو ان طلبہ کی استطاعت سے باہر ہیں۔

صورتحال یہ ہے کہ گیس کے لیے طلبہ کو گھنٹوں قطار میں کھڑا ہونا پڑ رہا ہے، اور پھر بھی خالی ہاتھ لوٹنا پڑتا ہے۔ طویل انتظار اور غیر یقینی صورتحال اب ان کے روزمرہ کا حصہ بن چکے ہیں۔ چھوٹے اور معمولی کسان خاندانوں سے تعلق رکھنے والے ان طلبہ کے لیے یہ بحران اب عارضی پریشانی سے بڑھ کر بقا کا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ کئی طلبہ کوچنگ اور لائبریری چھوڑ کر گاؤں لوٹنے کومجبور ہیں۔

تشویشناک پہلو یہ ہے کہ مسابقتی امتحانات کا شیڈول بدستور برقرار ہے۔ امتحانات وقت پر ہوں گے، لیکن تیاری اب بیرونی حالات پر منحصر ہو گئی ہے، جس کا براہ راست اثر ان کے نتائج اور مستقبل پر پڑے گا۔

طلبہ میں بڑھتا ہوا نفسیاتی دباؤ اس بات کا اشارہ ہے کہ یہ مسئلہ صرف گیس کی قلت تک محدود نہیں ہے، بلکہ ایک بڑے سماجی اور تعلیمی بحران کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

جہاں لڑکے شہر میں ادھر اُدھر جا کر کسی نہ کسی طرح گیس کا انتظام کر لیتے ہیں، وہیں ایک اجنبی شہر میں محدود دائرے میں رہنے والی لڑکیوں کے لیے یہ کہیں زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔(فوٹو : پی ٹی آئی)

بے یقینی کا عالم

اسی سلسلے میں کئی ایسے طلبہ سے ملاقات ہوئی، جن کے لیے گیس کی قلت محض ایک سہولت کا فقدان نہیں، بلکہ ان کے مستقبل کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ اتر پردیش کے باندہ ضلع کی پرینکا یادو، جو مسابقتی امتحانات کی تیاری کے لیے الہ آباد کے سلوری علاقے میں رہتی ہیں، اس کی ایک مثال ہیں۔

پرینکا بتاتی ہیں کہ ان کے والد ایک چھوٹے کسان ہیں۔ بارہویں میں اچھے نمبر آنے کے بعد بڑی مشکل سے وہ انہیں الہ آباد بھیجنے پر راضی ہوئے تھے۔ وہ تین سال سے زیادہ عرصے سے وہاں رہ کر تیاری کر رہی ہیں، لیکن روزگار کے موجودہ حالات کے باعث اب تک کامیابی حاصل نہیں کر سکی ہیں۔ گھر سے ہر ماہ بہ مشکل تین ہزار روپے ملتے ہیں۔ وقت کے ساتھ خاندان کا دباؤ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔

ایسے میں گیس کی موجودہ قلت نے ان کی مشکلات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ جس دکان سے وہ اب تک چھوٹے سلنڈر میں گیس بھرواتی تھیں، وہاں اب سپلائی بند ہو چکی ہے۔ دوسری جگہوں پر یا تو گیس مل نہیں رہی، اور اگر مل بھی  رہی ہے تو اتنی مہنگی کہ ان کے بجٹ سے باہر ہے۔

پرینکا کہتی ہیں کہ حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ انہیں اپنی کوچنگ بیچ میں چھوڑ کر گھر لوٹنے کے بارے میں سوچنا پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق، ہر بحران کا اثر لڑکیوں پر زیادہ پڑتا ہے، اور اس معاملے میں بھی صورتحال مختلف نہیں ہے۔ جہاں لڑکے کسی نہ کسی طرح گیس کا انتظام کر لیتے ہیں، وہیں ایک اجنبی شہر میں محدود دائرے میں رہنے  والی لڑکیوں کے لیے یہ کہیں زیادہ مشکل ثابت ہوتا ہے۔

پرینکا کی طرح ہی  سلطانپور ضلع کے لمبھوآ سے آئی شیوانگی بھی چھوٹا بگھاڑا کے ایک پی جی میں رہ کر پڑھائی کر رہی ہیں۔ کسان خاندان سے تعلق رکھنے والی شیوانگی نے الہ آباد یونیورسٹی سے ماسٹر کرنے کے بعد اب نیٹ امتحان کی تیاری شروع کی ہے۔ موجودہ حالات کے بارے میں ان کی تشویش صاف نظر آتی ہے۔

وہ بتاتی ہیں کہ گیس بھروائے کافی دن ہو چکے ہیں اور اب کسی بھی وقت سلنڈر خالی ہو سکتا ہے۔ اسی خدشے کے باعث انہوں نے رات کا کھانا بنانا تقریباً بند کر دیا ہے۔ وہ اور ان کی روم پارٹنر روز شام کو باہر جا کر ٹھیلوں سے کھانا خرید کر کھانے لگی ہیں۔

قابل ذکر پہلویہ بھی ہے کہ باہر سے کھانا خرید کر کھانے کی استطاعت بھی کتنے طلبہ کے پاس ہوتی ہے۔ ویسے بھی باہر کا کھانا اب سستا نہیں رہا، اور گیس کے بحران کا اثر وہاں بھی دکھائی دے رہا ہے۔

شیوانگی بتاتی ہیں کہ کافی کوششوں کے بعد انہیں ایک دکاندار کے ذریعے بلیک میں دو کلو گیس 750 روپے میں ملی، جسے وہ اب بہت محدود طریقے سے، صرف ایک وقت کا کھانا بنانے کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ گاؤں سے نکل کر شہر میں پڑھائی کرنا لڑکیوں کے لیے بذات خود ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ ایسے میں اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ان کی مشکلات کو مزید بڑھا دیتی ہے۔

سرکاری دعووں کے برعکس حقیقت

الہ آباد میں انتظامیہ کی جانب سے بار بار کہا جا رہا ہے کہ رسوئی گیس کا کوئی بحران نہیں ہے اور لوگوں کو صبر و تحمل سے کام لینا چاہیے، لیکن زمینی حقیقت ان دعووں کے بالکل برعکس ہے۔ شہر کے زیادہ تر پی جی اب اپنے میس بند کر چکے ہیں۔ الہ آباد یونیورسٹی کے اکثر ہاسٹلوں میں میس یا تو ریگولر نہیں ہیں یا مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں۔ کچھ جگہوں پر صرف ایک وقت کا کھانا مل رہا ہے، جبکہ صبح و شام کا ناشتہ بھی دستیاب نہیں ہے۔

الہ آباد میں مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کرنے والے کئی طلبہ عام طور پر اپنے کمروں میں سبزی بنا کر کھاتے تھے اور روٹیاں باہر سے خرید لیتے تھے، لیکن ایل پی جی کی قلت کا اثر اب ان چھوٹے ریستوراں اور ٹھیلوں پر بھی پڑ رہا ہے۔ جو روٹی پہلے 3 سے 4 روپے میں ملتی تھی، اس کی قیمت اب بڑھ کر 8 سے 9 روپے ہو گئی ہے۔ غریب، مزدور، کسان اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے لیے اس مہنگائی کے ساتھ گزارا کرنا اب آسان نہیں رہا۔ ایسے میں کئی طلبہ کو لگنے لگا ہے کہ مہنگے کرایہ اور بڑھتے اخراجات کے درمیان شہر میں رہنے سے بہتر ہے کہ وہ اپنے گھروں کو واپس لوٹ جائیں۔

کیا گھر لوٹ جانا ہی واحد راستہ ہے؟

مدھیہ پردیش کے ضلع ریوا کے رہنے والے امت تیواری، جو الہ آباد یونیورسٹی میں گریجویشن کے آخری سال کے طالبعلم ہیں، اس صورتحال کو طلبہ کی مجبوری قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک طرف یونیورسٹی کے طلبہ کی سی یو ای ٹی امتحانات جاری ہیں اور دوسری طرف آخری سمسٹر کے امتحانات شروع ہونے والے ہیں۔ ایسے میں طلبہ نہ تو ٹھیک سے شہر میں رہ پا رہے ہیں اور نہ ہی ان کے پاس گھر واپس جانے کا آپشن ہے۔ امتحانات کے دباؤ اور روزمرہ کی مشکلات کے درمیان وہ کسی نہ کسی طرح الہ آباد میں رکنےپر مجبور ہیں۔

گیس کی قلت اور بڑھتی ہوئی قیمتیں طلبہ کے لیے اتنا بڑا مسئلہ بن چکی ہیں کہ ان کے پاس کوئی عملی متبادل باقی نہیں بچا ہے۔ اگر وہ گھر لوٹتے ہیں تو پڑھائی متاثر ہوتی ہے، اور الہ آباد میں کرایہ کے چھوٹے کمروں میں وہ چولہا یا انگیٹھی بھی نہیں جلا سکتے کیونکہ مکان مالک اس کی اجازت نہیں دیتے۔ اس طرح وہ ایک ایسے بحران میں پھنسے ہوئے ہیں جہاں ہر راستہ بند نظر آتا ہے۔

کافی عرصے سے الہ آباد میں رہ کر مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کرنے والے جونپور کے سنجے کے لیے یہ دور شدید مایوسی سے بھرا ہوا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ آج طلبہ صرف بے روزگاری کے بحران سے ہی نہیں لڑ رہے بلکہ خوراک جیسی بنیادی ضرورت بھی ان کے لیے ایک چیلنج ہے۔ وقت پر کھانا نہ ملنا، اس کے لیے مسلسل ذہنی دباؤ میں رہنا، اور بڑھتے ہوئے اخراجات کا بوجھ،یہ سب چیزیں آخرکار ان کی تعلیم اور مستقبل کو متاثر کر رہی ہیں۔

سنجے کے مطابق،’آج جب پوری دنیا میں ایران-امریکہ اور اسرائیل جنگ کی وجہ سے توانائی  کابحران ہے، تیل اور گیس کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، ایسے میں ہمارے ملک میں گیس سلنڈر کی دکانوں پر لمبی قطاروں میں کھڑے یہ طلبہ، ان کی مایوسی اور ان کی بدحالی کے کے لیے ذمہ دار سسٹم یہ کہہ رہا ہے کہ ایل پی جی گیس کا کوئی بحران نہیں ہے ، لوگ صرف افواہ پھیلا رہے ہیں۔’

طلبہ کی یہ مایوسی دراصل اس طبقے یا نظام کے تصور سے باہرہے، جنہیں رسوئی گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا یا جنہیں آسانی سے معیاری اور غذائیت سے بھرپور کھانا میسر ہے۔

(روپم مشرا شاعرہ ہیں۔)



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...