وزیر اعلیٰ پینارائی وجین ’کیرالہ کے مودی‘ ہیں، کانگریس نے ریاست میں حراستی اموات پر اٹھائے سوال

AhmadJunaidJ&K News urduApril 4, 2026359 Views


سپریا شرینیت نے کہا کہ ریاست کے مختلف اضلاع، مثلاً کولم، ترووننت پورم، ملپورم، پتھنم تھٹا، تھریسور، کالی کٹ اور الپوژا میں متعدد حراستی اموات ہوئی ہیں جو نظامِ قانون کی سنگین ناکامی ظاہر کرتی ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>کانگریس لیڈر سپریا شرینیت / تصویر اے آئی  سی سی</p></div><div class="paragraphs"><p>کانگریس لیڈر سپریا شرینیت / تصویر اے آئی  سی سی</p></div>

i

user

کیرالہ میں اسمبلی انتخاب کے پیش نظر سیاسی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں۔ کانگریس لگاتار ریاست کی پینارائی وجین حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے اور مرکز کی مودی حکومت کو بھی نشانے پر لے رہی ہے۔ اس درمیان کانگریس ترجمان سپریا شرینیت نے ایک پریس کانفرنس ریاست میں ’حراستی اموات‘ پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے کیرالہ کی ایل ڈی ایف حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے حراستی اموات، پولیس زیادتی اور جمہوری آزادی پر قدغن کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔

سپریا شرینیت نے کہا کہ ریاست کے مختلف اضلاع، مثلاً ایڈوکی (سمپت)، کولم (راجن)، ترووننت پورم (سنتوش)، ملپورم (سمیر)، پتھنم تھٹا (سنجیو)، تھریسور (ستین)، کالی کٹ (شہاب) اور الپوژا (سریش) میں متعدد حراستی اموات ہوئی ہیں جو نظامِ قانون کی سنگین ناکامی ظاہر کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’ایک ایسے صوبہ میں، جو اپنی اعلیٰ شرح خواندگی اور سماجی اقدار کے لیے جانا جاتا ہے، وہاں حراستی تشدد اور اموات کی خبریں انتہائی تشویشناک ہیں۔‘‘ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پینارائی وجین حکومت میں پرامن احتجاج کو مجرمانہ رنگ دیا جا رہا ہے اور اختلافی آوازوں کے خلاف سخت دفعات کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن کی آواز کو بھی دبانے کی کوششیں ہو رہی ہیں، جس کی مثال کیرالہ قانون ساز اسمبلی کے قائد حزب اختلاف وی ڈی ستیسن کے ایک تنقیدی انٹرویو کو ہٹایا جانا ہے۔

کانگریس ترجمان کا کہنا ہے کہ پولیس بربریت اور حکومتی زیادتیوں کے خلاف متعدد شکایات کے باوجود کوئی مؤثر احتساب نظر نہیں آتا، جس سے طرز حکمرانی اور جمہوری آزادیوں پر سنگین سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ طرز حکمرانی کسی حد تک نریندر مودی کی حکومت سے مماثلت رکھتا ہے۔ کانگریس لیڈر نے کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پینارائی وجین پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ دراصل ’کیرالہ کے مودی‘ بن چکے ہیں۔ ان کے مطابق ریاست میں ادارہ جاتی زیادتی، ضرورت سے زیادہ پولیسنگ اور جوابدہی کے فقدان کے خلاف کئی مقدمات درج ہو چکے ہیں، اور حراستی اموات کے بڑھتے ہوئے اعداد و شمار نہایت تشویشناک ہیں۔

سپریا شرینیت کے طمابق کوئی بھی جمہوریت اس طرح نہیں چل سکتی، جیسا کہ کیرالہ میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔ جمہوریت اسی وقت مضبوط رہتی ہے جب عوام کو سوال کرنے کی آزادی حاصل ہو۔ انہوں نے بتایا کہ کانگریس کے منشور میں اس مسئلہ کے حل کے لیے واضح نکات شامل ہیں، جن میں نظام حکمرانی میں توازن کی بحالی، جوابدہی کے ڈھانچے کو مضبوط بنانا اور مکمل شفافیت کو یقینی بنانا شامل ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...