
السٹریشن: پری پلب چکرورتی
نعمان شوق نے یہ جملہ اپنے شعری مجموعہ’ فریزر میں رکھی شام‘کے دیباچے میں تقریبا پچیس سال قبل درج کیا تھا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہ جملہ اردو شاعری کا سرنامہ بنتا، لیکن اسےہماری دیرینہ روایت کے مطابق کتابوں میں دفن کر دیا گیا۔
بہر حال ،اب یہ جملہ نعمان شوق کی آشوبیدہ غزلوں کے تخلیقی بیانیہ کی وساطت سے ہمارے سامنے ہے ۔دلچسپ یہ ہے کہ مذکورہ جملہ ایک معروف جرمن فلسفی کی یاد دلاتا ہے، بہت زمانہ نہیں گزرا کہ ایسے ہی کسی مشکل وقت میں جرمن فلسفی تھیوڈور ڈبلیو اڈورنو نے کہا تھا؛
To write poetry after Auschwitz is barbaric
دراصل یہ قول ہولوکاسٹ کے بعد کے اخلاقی اور فکری بحران کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ( یہ بھی ایک المیہ ہے کہ ہولو کاسٹ کے متاثرین اب پوری دنیا کو اسی وبا میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں ) اڈور نو کے اس قول کا مفہوم یہ تھا کہ اتنے بڑے انسانی المیے کے بعد آرٹ اور شاعری کا روایتی اور مروج جمالیاتی انداز برقرار نہیں رہ سکتا۔ ایسے ہی ایک اور مغربی شاعر ڈبلیو ایچ آڈن نے بھی اسی طرح کی بات کہی تھی کہ؛
Poetry makes nothing happen
یعنی شاعری براہ راست دنیا کو بدل نہیں سکتی ، خاص طور پر ایسے بحران کے وقت میں۔ (حالانکہ حالی نے مقدمہ شعر و شاعری میں مشرق و مغرب میں شاعری کی کارکردگی کی کئی اہم مثالیں درج کی ہیں۔ )
ان اقوال کا حوالہ محض اس لیے ہےکہ نعمان شوق کا یہ جملہ دراصل بعض ایسے ہی خیالات کی یاد دہانی ہے ، یعنی یہ احساس کہ جب دنیا جل رہی ہو تو شاعری کرنا ایک طرح کی بے بسی یا بے معنویت کا اظہار ہے، جیسے قبرستان میں وائلن بجانا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خوداڈورنو نے بعد میں اپنے ہی قول میں کسی حد تک ترمیم کی اور یہ تسلیم کیا کہ ایسے المیوں کے بعد بھی اظہار ( شاعری /ادب ) ضروری ہے کیونکہ خاموشی بھی ایک طرح کا جرم بن سکتی ہے۔
’میرے نزدیک اس مشکل وقت میں شاعری کرنا قبرستان میں وائلن بجانے جیسا ہے‘
نعمان شوق کی آشو بیدہ غزلیں اسی جرم کے خلاف احتجاج ہیں۔ ان غزلوں کا مطالعہ کرتے ہوئے سب سے پہلے جو احساس قاری کے دل و دماغ پر مرتسم ہوتا ہے وہ ایک ہمہ گیر اضطراب، کرب اور تہذیبی شکست و ریخت کا احساس ہے۔ یہ شاعری محض جذباتی رد عمل نہیں بلکہ اپنے عہد کی سیاسی ، سماجی اور اخلاقی صورتحال کا گہرا اور کربناک مشاہدہ ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ موجودہ عہدمیں شاعری کرنا واقعی قبرستان میں وائلن بجانے کے مترادف ہے تو نعمان شوق کی شاعری اسی نوحہ مسلسل کی ایک باوقار، مگر چیختی ہوئی صورت ہے۔
ان کی پہلی غزل کا مطلع ہی عہد حاضر کے اجتماعی المیے کو ایک سادہ مگر تہہ دار استعارے میں سمیٹ دیتا ہے؛
جنگ میں اس کے ساتھ ہے جو بھی اندھا بہرہ شامل ہے
روز نیا اک قتل عام ہے جس میں دنیا شامل ہے
یہاں’اندھا بہرہ ہونا‘ شعوری غفلت، اخلاقی بے حسی اور اجتماعی جرم میں خاموش شمولیت کا استعارہ ہے۔ شاعر کا کمال یہ ہے کہ وہ کسی ایک فریق کو موردالزام نہیں ٹھہرا تا بلکہ پوری دنیا کو اس قتل عام میں شریک قرار دیتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں شاعری احتجاج سے آگے بڑھ کر احتساب بن جاتی ہے۔ اسی غزل میں ایک اور شعر ہے؛
کس نے سورج مار گرایا چاند ستارے سب غائب
سب سے زیادہ رونے والوں میں اندھیارا شامل ہے
یہاں ’اندھیارا‘ صرف ظلمت نہیں بلکہ وہ طاقتیں ہیں جو بظاہر نوحہ کناں ہیں اور در حقیقت اس تباہی کی خالق ہیں۔ یہ دوغلا پن ، یہ منافقت، نعمان شوق کے ہاں بار بار موضوع بنتا ہے۔ اس طرح وہ اس عہد کی سب سے بڑی سچائی یعنی اخلاقی تضاد کو بے نقاب کرتے ہیں۔
دوسری غزل میں شاعر عالمی سیاست اور مذہبی منافرت کے نام پر ہونے والی تباہیوں کو براہ راست موضوع بناتا ہے؛
روئے ہمیں بغداد پہ تہران پہ روئے
اسلام سے جھگڑے کبھی ایمان پہ روئے
یہاں بغداد اور تہران محض شہر نہیں بلکہ مسلم دنیا کے سیاسی و مذہبی تضادات کی علامت ہیں۔ اور اس بات پر حیرانی ہے کہ لوگ اصل انسانی المیے پر نہیں بلکہ نظریاتی جھگڑوں پر زیادہ آنسو بہاتے ہیں۔ یہ وہی المیہ ہے جسے ایک مفکر نے یوں بیان کیا تھا کہ ہمیں انسان کی موت سے زیادہ اپنے بیانیے کی شکست پر رونا آتا ہے۔
اسی غزل کا ایک اور چونکا نے والا شعرہے؛
دم توڑتے بچوں کی بھی چیخوں پہ ہنسے آپ
اپنی تو ہر اک ٹوٹتی فنجان پہ روئے
یہاں فنجان (چائے کی پیالی ) ایک معمولی ذاتی نقصان کی علامت ہے، جس کے مقابلے میں بچوں کی موت جیسے عظیم سانحے کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ یہ شعر اس عہد کی ترجیحات کی الٹ پھیر کو نہایت شدت سے سامنے لاتا ہے۔ گویا انسانیت کا پیمانہ ہی بدل چکا ہے۔
تیسری غزل میں آگ ایک کلیدی استعارہ ہے؛
کب سرد ہوں نہ جانے یہ مطبخ خداؤں کے
ایندھن کی طرح جلتے ہیں انسان آگ میں
یہاں ’ مطبخ خداؤں کے‘ نہایت معنی خیز ہے۔ اس سے مراد وہ طاقتیں ہیں جو خدائی کے دعویدار ہیں ۔ سیاسی ، مذہبی یا معاشی قوتیں جن کے مفادات کی بھٹی میں انسان جل رہے ہیں۔ شاعر کا یہ سوال کہ یہ آگ کب سرد ہو گی ، دراصل ہماری اجتماعی بے بسی کا اظہار ہے۔ اس غزل کا ایک اور اہم شعر؛
اک روز دیکھ لینا یقیناً بجھے گی آگ
ہاتھ اپنے جب جلائیں گے شیطان آگ میں
یہاں امید کی ایک ہلکی سی کرن موجود ہے، مگر وہ بھی ایک شرط کے ساتھ کہ جب ظلم کرنے والے خود اس آگ کا شکار ہوں گے۔ یہ ایک طرح کا تاریخی انصاف ہے جس پر شاعر کا ایمان ہے۔
پانچویں غزل میں شاعر مذہبی و سماجی زوال کو نہایت تلخ پیرایہ میں بیان کرتا ہے؛
خدائی کا سب یزید نشہ کیے ہوئے تھے
خدا کے بندے تو مسجدوں میں چھپے ہوئے تھے
یہاں ’ یزید‘ ظلم اور جبر کی علامت ہے ، اور شاعر کہتا ہے کہ ہر طرف یہی کیفیت ہے۔ سچ بولنے والےاور مزاحمت کرنے والے یا تو خاموش ہیں یا گوشہ نشیں۔ یہ وہی صورتحال ہے جسے کسی مفکر نے یوں کہا تھا کہ’ جب ظالم بولنے لگ جائیں اور مظلوم خاموش ہو جائیں تو تاریخ اندھی ہو جاتی ہے ۔‘
بہرحال، اسی غزل کا یہ شعر کہ؛
گزرنے والوں سے ان کی باتیں میں سن کے رویا
ترقی پاکر جو کھیت بازار کے ہوئے تھے
یہ شعر سرمایہ دارانہ نظام پر ایک گہرا طنز ہے، جہاں زراعت، جو زندگی کی علامت تھی ، اب منڈی کا حصہ بن چکی ہے۔ گویا ہر چیز حتیٰ کہ زمین بھی سرمایہ کی منطق کے تابع ہوگئی ہے۔
ایک اور غزل میں قتل و غارت کے مسلسل عمل کو یوں بیان کیا گیا ہے؛
چن چن کے باغ باغ سے مارے گئے ہیں یوں
سمجھے گا کون پھول ہمارے گئے ہیں یوں
حالانکہ یہاں روایتی علامت کا استعمال کیا گیا ہے۔ لیکن اثر آفرینی کی شدت میں کوئی کمی نہیں آتی ۔’ پھول‘ معصوم انسانوں کی علامت ہے ، اور یہاں ’چن چن کے باغ سے‘ایک منظم اورمنصوبہ بند قتل کی طرف اشارہ ہے۔اور’سمجھے گاکون‘ میں سارا درد سمٹ آیا ہے ۔
اسی تسلسل میں جمہوریت ، عدلیہ اور نظام انصاف پر یہ شعر ملاحظہ کیجیے کہ؛
لاش بھی جمہوریت کی سڑچکی
دفن ہو گا اب جنازہ حکم ہے
یہ شعر نہایت جرأت مندانہ ہے۔ یہاں جمہوریت کو ایک لاش کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جو محض رسمی تدفین کی منتظر ہے۔ یہ وہی صورتحال ہے جسے جمہوری زوال کا نام دیا جاتا ہے۔
ایک اور غزل میں شاعر داخلی کرب کو موضوع بناتا ہےکہ؛
میں دن رات ان کی شکلیں دیکھتا تھا
سواب ہیں سارے قاتل میرے اندر
یہاں ’قاتل ‘ باہر نہیں بلکہ اندر موجود ہیں۔ یہ ایک نفسیاتی اور وجودی سطح کا اعتراف ہے کہ ہم سب کسی نہ کسی حد تک اس ظلم کا حصہ بن چکے ہیں۔ یعنی ’ظالم بھی ہیں اور مظلوم بھی‘ یہی وہ مقام ہے جہاں نعمان شوق کی شاعری محض خارجی تنقید نہیں رہتی بلکہ خود احتسابی کا عمل بن جاتی ہے۔ اس طرح؛
حقیقت جنگ ہونے پر کھلی ہے
بسے ہیں کتنے بزدل میرے اندر
یہ شعر جنگ کے نفسیاتی اثرات کو ظاہر کرتا ہے۔ جنگ صرف باہر نہیں لڑی جاتی، وہ انسان کے اندر بھی ایک میدان بنادیتی ہے جہاں خوف، بزدلی اور تضاد جنم لیتے ہیں۔ ایک اور شعر ہےکہ؛
بدلیں جناب نام کہ جھگڑا ہے نام کا
جلدی اتاریے جو لبادہ ہے نام کا
یہاں ’نام‘ شناخت، مذہب اور قومیت وغیرہ کا استعارہ ہے۔ یوں اس شعر کے معنوی بھید انتہائی وجودی ہیں۔ اسی غزل کا یہ شعر بھی دیکھیے کہ؛
یہ طور بھی سکھایا ہمیں کاروبار نے
اندر سے ہم کچھ اور ہیں پردہ ہے نام کا
یہ کسی بھی طرح کی منافقت سے زیادہ سیاسی صداقتوں کے جبر کی طرف اشارہ ہے۔ اس جبر کی تعبیر میں سیاسی بیانیے کی مکمل تصویر موجود ہے۔
بہرحال،آخری غزل میں شدید طنزیہ اور کربناک انداز ہےکہ؛
غم چاروں طرف غم ہے تمہیں عید مبارک
اپنا تو محرم ہے تمہیں عید مبارک
یہاں عید اور محرم دو متضاد کیفیتوں کی علامت ہیں، اور اسی تضاد کے سہارے تمام دنیا کے انسانی المیے کو نعمان شوق نے اپنی سوگواری کے احساس میں ڈھال دیا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو نعمان شوق کی آشو بیدہ غزلیں ایک ایسے عہد کی ترجمان ہیں جہاں سچ اور جھوٹ ظلم اور انصاف، مذہب اور سیاست سب گڈ مڈ ہو چکے ہیں۔
اگر ایک جملے میں کہا جائے تو نعمان شوق کی شاعری خون آلود آئینے میں اپنے چہرے کو دیکھنے کے مترادف ہے۔ یہ شاعری ہمیں بے چین کرتی ہے، ہمیں ہمارے جرم کا احساس دلاتی ہے، اور شاید یہی اس کا سب سے بڑا کمال ہے۔ اور اس طرح کی شاعری صحیح معنوں میں قبرستان میں وائلن بجانے کے عمل جیسا ہے…






