ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) نے اپنے 2 اراکین اسمبلی کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے پارٹی کی ابتدائی رکنیت سے خارج کر دیا ہے۔ ان اراکین اسمبلی کے نام سندیپن ساہا اور رتبرت بنرجی ہیں۔ ٹی ایم سی نے دونوں لیڈران پر پارٹی مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے اور تنظیمی مفادات کے خلاف کام کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے یہ کارروائی کی ہے۔
موصولہ اطلاع کے مطابق دونوں اراکین اسمبلی کو پارٹی سے معطل کیے جانے کی جانکاری پر مبنی خط اسپیکر رتھیندر بوس کو بذریعہ خط بھیج دی گئی ہے۔ اس قدم کے بعد رتبرت بنرجی اور سندیپن ساہا اسمبلی کے رکن تو برقرار رہیں گے، لیکن انہیں ترنمول کانگریس کے رکن اسمبلی کے طور پر نہیں جانا جائے گا۔
یکم جون کو دونوں اراکین اسمبلی کو جاری کیے گئے علیحدہ علیحدہ نوٹس میں ترنمول کانگریس نے کہا کہ یہ پارٹی کی مجاز قیادت کی جانب سے بلائی گئی میٹنگوں میں مسلسل غیر حاضر رہے۔ پارٹی کے مطابق دونوں لیڈران ٹی ایم سی کے ٹکٹ پر انتخاب جیت کر اسمبلی پہنچے تھے، لیکن بعد میں انہوں نے تنظیمی نظم و ضبط کی پابندی نہیں کی۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ پارٹی کے مجاز ادارے نے یہ بھی پایا ہے کہ دونوں اراکین اسمبلی ایسی سرگرمیوں میں شریک رہے ہیں اور ایسے بیانات دیے ہیں جو ٹی ایم سی کے لیے نقصاندہ ہیں۔ اسے سنگین نظم و ضبط کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں اراکین اسمبلی کو مخاطب کرتے ہوئے نوٹس میں لکھا گیا ہے کہ ’’پورے معاملے پر مناسب غور و خوض کے بعد ٹی ایم سی کے مجاز ادارے نے آپ کو پارٹی کی (ابتدائی) رکنیت سے فوری اثر کے ساتھ خارج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘ ترنمول کانگریس نے واضح کیا ہے کہ اخراج کے بعد سندیپن ساہا اور رتبرت بنرجی پارٹی سے وابستہ کسی بھی عہدے، ذمہ داری، استحقاق یا اختیار کا استعمال نہیں کر سکیں گے۔ یہ فیصلہ نوٹس جاری ہونے کی تاریخ سے ہی مؤثر تصور کیا جائے گا۔
اگرچہ پارٹی نے دونوں اراکین اسمبلی پر پارٹی مخالف سرگرمیوں کا الزام لگایا ہے، لیکن نوٹس میں ان سرگرمیوں یا بیانات کی تفصیلات کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ ٹی ایم سی کا کہنا ہے کہ مجاز ادارے کی جانب سے پورے معاملے کا جائزہ لینے کے بعد ہی یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ پارٹی کے اس بڑے فیصلے کے بعد سندیپن ساہا اور رتبرت بنرجی کی جانب سے فی الحال کوئی آفیشیل رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




































