
کھڑگے نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا کہ اقتصادی جائزہ میں معلومات روکنے کے لیے ممکنہ وزارتی سطح کے ویٹو کی تجویز دی گئی ہے اور یہ جانچنے کی بات کی گئی ہے کہ کیا نوکرشاہی کے عوامی خدمات سے متعلق ریکارڈ، تبادلے اور عملے کی رپورٹس کو عوامی نگرانی سے باہر رکھا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق یہ تجاویز شفافیت کی روح کے منافی ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت نے آر ٹی آئی قانون کو مرحلہ وار کمزور کیا ہے۔ کھڑگے کے مطابق 2025 تک چھبیس ہزار سے زیادہ مقدمات زیرِ التوا ہیں، جب کہ 2019 میں قانون میں ترمیم کر کے اطلاعاتی کمشنروں کی مدتِ کار اور تنخواہوں پر حکومتی کنٹرول بڑھایا گیا، جس سے آزاد نگرانی متاثر ہوئی۔






