عوام سے کفایت شعاری کی اپیل  کے باوجود وزیراعظم کی ریلیاں اور روڈ شو جاری  

AhmadJunaidJ&K News urduMay 12, 2026360 Views


وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے کفایت شعاری کی اپیل کے بعد ان کے کئی شہروں کے دوروں پرسوال اٹھ رہے ہیں۔ جس اتوار کو وزیر اعظم نے شہریوں سے’بحران کے وقت‘ میں’اجتماعی قربانی‘ کی بات کہی، اسی دن انہوں نے تین ریاستوں کے چار شہروں میں عظیم الشان اہتمام اور انتظامات والے پروگراموں میں شرکت کی،  اور یہ دورے آج بھی جاری ہیں۔

جس اتوار کو وزیراعظم نے لوگوں سے’بحران کے وقت‘میں  ’اپنے فرائض کو ترجیح دیتے ہوئے ملک کے لیے اجتماعی قربانی ‘ کی بات کہی، اسی دن ان کے پروگراموں میں عظیم الشان سیاسی انتظامات کا مشاہدہ کیا گیا۔تصویر بہ شکریہ: پی آئی بی

نئی دہلی/ممبئی: چار ریاستوں اور ایک یونین ٹریٹری میں ہونے والے انتخابات کے کچھ  ہی دنوں بعد اتوار (10 مئی) کو وزیر اعظم نریندر مودی نے مغربی ایشیا کی کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والے اقتصادی دباؤ کے حوالے سے اپنی تقریر میں عوام سے پیٹرول اور ڈیزل کے استعمال میں کفایت شعاری اختیار کرنے کی اپیل کی۔ ساتھ ہی انہوں نے ایک سال تک سونا نہ خریدنے اور کھانے کے تیل کے کم استعمال کی بھی اپیل کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ جہاں تک ممکن ہو گھر سے کام (ورک فرام ہوم) کیا جائے ، ورچوئل میٹنگ کی جائیں اور لوگوں سے بیرون ملک سفر کو مؤخر کرنے کی بھی بات کہی۔

تاہم، وزیر اعظم مودی کی ان تمام اپیلوں کے درمیان خود ان کے قول و فعل میں بڑا تضاد نظر آیا۔ جس اتوار کو وزیر اعظم نے شہریوں سے ’بحران کے وقت‘میں’اپنے فرائض کو ترجیح دیتے ہوئے عوام سے اجتماعی قربانی‘کی بات کہی، اسی دن ان کے پروگراموں میں عظیم الشان سیاسی انتظامات کا مشاہدہ کیا گیا، جو ان کی اپیل سے بالکل میل نہیں کھا رہا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ اسی اتوار کو وزیر اعظم مودی نے اپنے دن کا آغاز بنگلورو سے کیا، جہاں انہوں نے’آرٹ آف لیونگ‘کی 45ویں سالگرہ کی تقریب سمیت کئی پروگراموں میں شرکت کی۔

اس کے بعد وہ حیدرآباد کے لیے روانہ ہوئے اور تقریباً دوپہر 2:20 بجے بیگم پیٹ ایئرپورٹ پہنچے۔ کچھ ہی دیر بعد انہوں نے سڑک، ریلوے، پیٹرولیم ٹرمینل، ٹیکسٹائل اور صنعتی شعبوں سے متعلق منصوبوں کے افتتاح اور سنگ بنیاد کی تقاریب میں حصہ لیا۔

ان میں سے کوئی بھی پروگرام حکومت کے لیے اتنا ضروری نہیں تھا کہ وہاں وزیر اعظم کی براہ راست موجودگی لازمی ہو۔ اس کے علاوہ ان تقریبات کو نئی دہلی میں ان کے دفتر سے ورچوئل طور پر بھی منعقد کیا جا سکتا تھا۔

ان تمام پروگراموں میں شرکت کے بعد وزیر اعظم ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہائی ٹیک سٹی گئے، جہاں انہوں نے سندھو اسپتال کا افتتاح کیا۔ یہ ایک بڑا نجی، غیر منافع بخش ملٹی اسپیشلٹی اسپتال ہے، جسے راجیہ سبھا کے رکن اور ہیٹرو گروپ کے بانی بندی پارتھاسارتھی ریڈی نے قائم کیا ہے۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے اسپتال کے بانی کے اہل خانہ سے بھی ملاقات کی۔

اس کے بعد وزیر اعظم مودی سکندرآباد کے پریڈ گراؤنڈ پہنچے، جہاں انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی ایک عوامی ریلی سے خطاب کیا۔ یہاں انہوں نے عوام کو ’بحران کے وقت میں کفایت شعاری‘کا پیغام دیا۔ وہ شام تقریباً 7 بجے حیدرآباد سے گجرات کے جام نگر روانہ ہوئے، جہاں انہوں نے ایک اور جلسے سے خطاب کیا۔

ظاہر ہے کہ وزیراعظم مودی کے ایک ہی دن کے پروگرام میں کئی پروازیں، ایک بڑے شہر میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے سفر، سخت سکیورٹی کے ساتھ بڑے پیمانے پر زمینی دورے اور پارٹی کی جانب سے اہم اور مقامی صف بندی کی ضرورت والی ایک بڑی عوامی ریلی شامل تھی۔ ایسے میں یہ تمام سرگرمیاں ایندھن کی بچت اور نقل و حرکت میں کفایت کے اس اصول کے بالکل برعکس تھیں جس کی وہ عام شہریوں سے اپنی تقریر میں اپیل کر رہے تھے۔

اسی طرح بچت اور صبر وتحمل اختیار کرنے کے بیان کے  ٹھیک ایک دن  بعد ہی سوموار (11 مئی) کو وزیراعظم مودی نے اپنا مہنگا اور مصروف شیڈول جاری رکھا۔ وہ گجرات کے جام نگر سے صبح سویرے روانہ ہو کر ویراول میں سومناتھ مندر میں ایک عظیم الشان تقریب میں شرکت کے لیے پہنچے۔

یہاں انہوں نے درشن، پوجا اور کئی عوامی پروگراموں میں حصہ لیا، جن میں گر سومناتھ ضلع کا ایک روڈ شو بھی شامل تھا، جس کے بعد وہ شام کو وڈودرا کے لیے روانہ ہوئے، جہاں وہ تقریباً شام 6 بجے سردار دھام ہاسٹل کا افتتاح کریں گے اور مقامی اجتماعات سے خطاب کریں گے۔

تقاریب کی شان و شوکت

اس کے بعد، منگل (12 مئی) کو وزیراعظم مودی آسام میں ہمنتا بسوا شرما کی قیادت میں نئی حکومت کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لیے گوہاٹی روانہ ہونے والے ہیں۔

تقریب کی شان و شوکت کے بارے میں آنے والی خبروں سے یہ اشارہ مل رہا ہے کہ وزیراعظم مودی کی اپیل کا ان کی اپنی ہی پارٹی پر بھی کچھ خاص اثر نہیں ہوا۔

دکن ہیرالڈ کی ایک رپورٹ کے مطابق، آسام بی جے پی کے سربراہ دلیپ سیکیہ نے اعلان کیا ہے کہ ریاست بھر سے تقریباً ایک لاکھ افراد کی شرکت اس پروگرام میں متوقع ہے۔ سیکیہ نے کہا کہ یہ تقریب ایک  ’شاندار ایونٹ ‘ ہوگی۔

خبروں کے مطابق، اس میں وزیراعظم کے ساتھ ساتھ بی جے پی مقتدرہ مختلف ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کے بھی آنے کی توقع ہے۔ اس میں اضافی فضائی سفر، سڑک کے قافلے، سکیورٹی انتظامات اور بڑے پیمانے پر عوامی اجتماع شامل ہوں گے، جو اتوار کے روز شہریوں سے ایندھن کے کم استعمال، غیر ضروری سفر سے بچنے اور ورچوئل طریقے سے جڑنے کی وزیراعظم کی اپیل کے بالکل برعکس ہیں۔


یہ تضاد واضح ہے؛ وزیراعظم مودی نے متوسط طبقے کے خاندانوں سے بیرونی سفر منسوخ کرنے، شادیوں میں سونے کی خریداری کم کرنے، ذاتی گاڑیوں کے استعمال میں کمی اور گھر سے کام کرنے کی اپیل کی، جبکہ ان کا اپنا شیڈول وسیع فضائی اور ہیلی کاپٹر سفر پر مبنی تھا اور اس میں بڑی تعداد میں لوگ شخصی  طور پرشامل  ہوئے۔


معلوم ہو کہ وزیراعظم کی نجی اور سرکاری زندگی میں طویل عرصے سے وسیع ملکی و بین الاقوامی سفر، بڑے قافلے اور منظم عوامی پروگرام شامل رہے ہیں۔ سکیورٹی اور پروٹوکول کے لیے وسائل درکار ہوتے ہیں، لیکن ریاستی اور پارٹی وسائل سے حمایت یافتہ پلیٹ فارم سے عام لوگوں کو کفایت شعاری کا درس سوالوں کے دائرے میں آتا ہے۔

غور طلب  ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے میں ہی وزیراعظم مودی نے پانچ روڈ شو کیے ہیں اور کئی سیاسی پروگراموں میں شرکت کی ہے جن میں کافی خرچ کے علاوہ وسائل استعمال ہوئے: 7 مئی کو وہ بہار حکومت کی نئی کابینہ کی حلف برداری میں شریک ہوئے تھے، جس میں سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے بیٹے نشانت کمار بھی شامل تھے۔ اسی دن انہوں نے پٹنہ میں روڈ شو بھی کیا تھا۔

اس کے بعد 9 مئی کو وہ مغربی بنگال میں وزیراعلیٰ سوویندو ادھیکاری اور ان کی کابینہ کے پانچ دیگر وزراء کی حلف برداری میں شرکت کے لیے کولکاتہ گئے تھے، جہاں انہوں نے روڈ شو بھی کیا۔

اس کے بعد سے انہوں نے حیدرآباد، جام نگر اور سومناتھ میں تین روڈ شو کیے ہیں۔

گویا جب ملک معاشی بدانتظامی اور بیرونی جھٹکوں سے دوچار ہے، قیادت کے عملی نمونے اور عوام کو دی جانے والی نصیحت میں ہم آہنگی قابل اعتبار ہونے کے لیے اہم ہے۔

ایک طرف 10 مئی کو وزیراعظم نے عام شہریوں کو کفایت شعاری کا واضح پیغام دیا، تو دوسری طرف اسی دن اور 11 مئی کو گجرات بھر میں منعقد مندر کی تقریبات، روڈ شواور افتتاحی تقاریب کے ساتھ ان کے اپنے شیڈول میں قول و فعل کا فرق واضح طور پر نظر آتا ہے۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...