
عمر خالد نے نچلی عدالت میں دلیل دی تھی کہ ان کے خاندان میں والد، والدہ اور پانچ بہنیں ہیں لیکن 71 سالہ والد والدہ کی دیکھ بھال کرنے کی حالت میں نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی چار بہنوں کی شادی ہو چکی ہے اور وہ الگ الگ مقامات پر رہتی ہیں، اس لیے خاندان کے سب سے بڑے اور اکلوتے بیٹے ہونے کے ناتے وہ اپنی والدہ کی سرجری سے پہلے اور بعد میں ان کی دیکھ بھال کرنا چاہتے ہیں۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ عمر خالد کو پہلے بھی کئی مواقع پر عبوری ضمانت دی جا چکی ہے اور ہر بار انہوں نے عدالت کی تمام شرائط پر عمل کرتے ہوئے مقررہ وقت پر خودسپردگی کی۔





