آبنائے ہرمز کے متعلق شروع ہوئی کشیدگی کے درمیان اب سعودی عرب، یو اے ای اور ترکیہ ایک الگ اور متبادل راستہ تلاش رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز پر امریکی ناکہ بندی کے بعد سے دنیا بھر کے ممالک کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ’ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ‘ نے ایک رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ سعودی عرب، یو اے ای اور ترکیہ کی حکومتیں زمینی ریل لنک، سمندری کوریڈور اور پائپ لائن پروجیکٹس پر کام کر رہی ہیں۔ اس کا مقصد آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر سے ہو کر گزرنے والے راستوں پر اپنے انحصار کو کم کرنا ہے۔
حال ہی میں جاری اس خبر کے بعد ماہرین اس قدم کو خلیجی خطے میں کمزور بنیادی ڈھانچے پر انحصار سے دور ایک ڈھانچہ جاتی تبدیلی بتا رہے ہیں۔ ان راستوں میں خلیج فارس کے باہر واقع یو اے ای اور عمان کے بندرگاہوں سے مال کی آمد و رفت شامل ہے۔ اس کے ذریعہ اب مال کو سعودی عرب سے ہوتے ہوئے اردن پہنچایا جائے گا۔ اس کے بعد وہاں سے مصر کے نہر سویز یا شامی بندرگاہوں کے راستے بحیمرہ روم تک لے جایا جائے گا۔
اس کے علاوہ پہلے سے ہی کچھ لنک کام کر رہے ہیں۔ ان میں یو اے ای کے بندرگاہوں کو سعودی عرب کے بندرگاہوں سے جوڑنے والا سمندری زمینی کوریڈور، ساتھ ہی اردن کی ریل سروس شامل ہیں، جو رواں سال ہی شروع کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب نے اپنے نیوم بندرگاہ سے ایک مال برداری سروس بھی شروع کی ہے جو نہر سویز کو خلیجی ممالک اور عراق سے جوڑتی ہے۔ دوسری جانب متوازی سعودی عرب، یو اے ای، ترکیہ اور اردن نے تاریخی حجاز ریلوے کو پھر سے شروع کرنے کے منصوبوں پر کام شروع کر دیا ہے۔ یہ ریلوے عمان اور دمشق ہوتے ہوئے جدہ کو استانبول سے جوڑتا ہے۔
واضح رہے کہ حال ہی میں جدہ میں ایک جی سی سی سربراہی اجلاس میں لیڈران نے ایک علاقائی ریلوے نیٹورک کو تیزی سے تیار کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ نیٹورک سعودی عرب کو یو اے ای، قطر، عمان، کویت اور بحرین سے جوڑے گا۔ اس کے علاوہ تیل اور گیس پائپ لائنوں کے لیے ایک کثیر القومی نیٹورک بنانے کے ساتھ ساتھ بجلی کی لائنوں اور پانی کے نظام کی تعمیر پر بھی بات چیت جاری ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔





































