
جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے میں تباہ ایک عمارت، جسے جبل عامل اسپتال کی ٹوٹی ہوئی کھڑکی سے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ تصویر 1 جون 2026 کی ہے۔ (فوٹو: اے پی)
نئی دہلی: مغربی ایشیا میں دو ماہ قبل ہوئی جنگ بندی کے بعد پہلی بار اسرائیل اور ایران نے ایک دوسرے کی سرحدوں کے اندر براہ راست فوجی حملے کیے ہیں۔ اسرائیلی فضائی حملوں اور اس کے جواب میں ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں نے پورے خطے میں کشیدگی کو ایک بار پھر خطرناک سطح پر پہنچا دیا ہے۔ حالات ایسے ہیں کہ جنگ بندی تقریباً غیر مؤثر نظر آرہی ہے اور خطہ ایک نئے فوجی تصادم کے دہانے پر کھڑا نظر آ رہا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق، اسرائیلی فوج نےسوموار کو کہا کہ ایران نے اس کے علاقے کی طرف میزائلوں کی دوسری کھیپ داغی ہے۔ اس کے بعد ملک کے کئی حصوں میں سائرن بجائے گئے اور فضائی دفاعی نظام کو ایکٹو کیا گیا۔ دوسری جانب ایران کے مختلف شہروں میں بھی حملوں کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ تہران، تبریز اور اصفہان میں دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جبکہ بعد میں کرج اور جنوب مغربی ایران کے شہر ماہشہر میں بھی حملوں کی رپورٹ ہے۔
یہ خبریں اس وقت آئی ہیں جب اسرائیل نے لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے داحیہ پر حملہ کیا۔ اس حملے میں کم از کم دو افراد ہلاک اور 20 زخمی ہو گئے۔ الجزیرہ کے مطابق، اس کے جواب میں ایران نے شمالی اسرائیل کی طرف میزائل داغے اور الزام لگایا کہ اسرائیل مسلسل جنگ بندی معاہدوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی ایرو اسپیس فورس نے اسرائیل کے نیواتیم اور تل نوف فضائی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق، آئی آر جی سی کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایران کے اندر موجود متعدد ریڈار تنصیبات پر ہونے والے اسرائیلی حملوں کے جواب میں کی گئی۔ گارڈز نے یہ بھی کہا کہ وہ ہر صورتحال کے لیے تیار ہیں اور ضرورت پڑنے پر وسیع فوجی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔
اس درمیان اسرائیل نے بھی ایران کے صنعتی اور اسٹریٹجک مراکز کو نشانہ بنانا جاری رکھا ہے۔ انڈین ایکسپریس اور ایرانی خبر رساں اداروں کے حوالے سے موصولہ جانکاری کے مطابق، خوزستان صوبے کے شہر ماہشہر میں واقع کارون پیٹروکیمیکل کمپنی پر اسرائیلی حملہ ہوا ہے۔ مقامی حکام نے بتایا کہ حملے میں پلانٹ کا ایک حصہ تباہ ہوا ہے۔ ماہشہر پیٹروکیمیکل اسپیشل اکنامک زون کی انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ حفاظتی وجوہات کی بنا پر ملازمین کو احاطے سے نکال لیا گیا ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل پر کیا گیا حملہ ایک ’انتباہ‘تھا۔ ان کا اشارہ ہےکہ فی الحال ردعمل کو محدود رکھا گیا ہے، لیکن اگر اسرائیل لبنان، خصوصاً بیروت کے داحیہ علاقے پر حملے جاری رکھتا ہے تو ایران مزید جوابی کارروائی کرے گا۔ ایرانی حکام نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ کسی بڑے اسرائیلی حملے کی صورت میں ردعمل’سخت اور افسوس کرنے والا‘ہوگا۔
وہیں، امریکہ دونوں فریقوں کو تحمل سے کام لینے کی تلقین کرتا دکھائی دیتا ہے، تاہم اس کے اثر و رسوخ پر سوال بھی اٹھ رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز سے بات چیت میں کہا کہ ایران کی میزائل کارروائی تنازعہ ختم کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچائے گی اور تہران کو مذاکرات کی میز پر واپس آنا چاہیے۔ انہوں نے کہا،’یہ یقینی طور پرمدد نہیں کرے گا۔ انہیں واپس آ کر معاہدہ کرنا ہوگا۔‘
انڈین ایکسپریس کے مطابق، ٹرمپ نے یہ بھی اشارہ دیا کہ اسرائیل کو آخرکار واشنگٹن اور تہران کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے کو قبول کرنا پڑ سکتا ہے۔ فنانشل ٹائمز سے بات چیت میں انہوں نے کہا،’تمام فیصلے میں کر رہا ہوں‘، جبکہ ایکسیوس سے انہوں نے کہا کہ وہ اسرائیل کو جوابی کارروائی سے باز رہنے کا مشورہ دیں گے۔
تاہم، امریکی سینیٹر کرس مرفی نے صورتحال کو مختلف زاویے سے دیکھا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ اسرائیل نے ایران پر حملہ کر کے ٹرمپ کی عوامی اپیل کی خلاف ورزی کی ہے اور اس سے امریکی اثر و رسوخ کمزور ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
اس دوران علاقائی سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ الجزیرہ کے مطابق، قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر بات کی۔ دونوں رہنماؤں نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں اور لبنان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ قطر نے کہا ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے، علاقائی استحکام اور طویل مدتی امن کے لیے تمام کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔
فی الحال سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ دو ماہ قبل ہوئی جنگ بندی تیزی سے کمزور پڑتی نظر آ رہی ہے۔ خطے میں جاری فوجی سرگرمیوں، باہمی دھمکیوں اور بڑھتی ہوئی بیان بازی کے درمیان یہ خدشہ گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ مغربی ایشیا ایک بار پھر وسیع فوجی تصادم کی طرف بڑھ سکتا ہے۔
Categories: خاص خبر, خبریں, عالمی خبریں






