
السٹریشن : دی وائر
نئی دہلی: نیوز براڈکاسٹنگ اینڈ ڈیجیٹل اسٹینڈرڈز اتھارٹی (این بی ڈی ایس اے) نے زی نیوز نیٹ ورک کے مختلف چینلوں، ٹائمز ناؤ نو بھارت، نیوز18 اور این ڈی ٹی وی سمیت متعدد ٹی وی نیوز چینلوں کو ان نشریات کے سلسلے میں خبردار کیا ہے، جن میں مبینہ طور پر کھانے میں ملاوٹ کے واقعات کو ’تھوک جہاد‘ اور ’فوڈ جہاد‘ جیسے الفاظ کے ساتھ پیش کیا گیا تھا۔
لائیو لا کی رپورٹ کے مطابق، اتھارٹی نے نیوز رپورٹنگ میں لفظ ’جہاد‘ کے استعمال سے متعلق خصوصی گائیڈ لائن تیار کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔
یہ کارروائی ان شکایات کی بنیاد پر کی گئی ہے، جن میں الزام لگایا گیا تھا کہ بعض نشریات نے کھانے پینے کی اشیاء میں مبینہ ملاوٹ کے واقعات کو بار بار ’جہادی سازش‘ قرار دے کر انہیں فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی۔
جولائی 2025 میں زی یوپی، زی بھارت، این ڈی ٹی وی اور نیوز18 پر نشر ہونے والے ایک معاملے میں اتھارٹی نے ایک دودھ فروش سے متعلق مبینہ واقعے کی کوریج کا جائزہ لیا۔ پروگراموں کے ساتھ چلائے گئے ٹیکر اور تھمب نیل میں اس واقعہ کو ’تھوک جہاد‘ یا ’دودھ جہاد‘ بتایا گیا اور ملزم کی مذہبی شناخت پر خاص زور دیا گیا۔
شکایت میں کہا گیا کہ نشر کردہ ویڈیو مبینہ فعل کو حتمی طور پر ثابت نہیں کرتا تھا اور نہ ہی ملزم کا مؤقف مناسب انداز میں پیش کیا گیا۔
این بی ڈی ایس اے نے تبصرہ کیا کہ گزشتہ چند برسوں میں اسے ایسے متعدد معاملات میں شکایات موصول ہوئی ہیں، جن میں کسی مخصوص برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کے واقعات کی رپورٹنگ کرتے وقت براڈکاسٹرز نے لفظ ’جہاد‘ استعمال کیا۔ اس طرح کی اصطلاحات کے بڑھتے استعمال کو دیکھتے ہوئے اتھارٹی نے کہا کہ نیوز براڈکاسٹ میں اس کے استعمال کے لیے واضح رہنما اصول طے کرنا ضروری ہو گیا ہے۔ براڈکاسٹرز کو گائیڈ لائن جاری کرنے کے بعد اس شکایت کو بند کر دیا گیا۔
اکتوبر 2024 میں ٹائمز ناؤ نو بھارت پرنشر ایک اور پروگرام کے حوالے سے بھی اتھارٹی نے جائزہ لیا، جس میں کھانے میں تھوکنے کے مبینہ واقعات کو ’تھوک جہاد‘ کہا گیا تھا۔ شکایت کرنے والے کا کہنا تھا کہ اس طرح کی نشریات سے مسلمانوں کے ذریعے کیے گئے مشتبہ غلط کاموں کو کسی بڑی سازش کے حصے کے طور پر دکھانے کا پیٹرن نظر اتا ہے۔
چینل نے اپنے جواب میں کہا کہ پروگرام کا مقصد عوامی صحت اور صفائی سے متعلق مسائل کو اجاگر کرنا تھا اور اس اصطلاح کا استعمال فرقہ وارانہ تقسیم پیدا کرنے کے ارادے سے نہیں کیا گیا تھا۔ یہ بھی بتایا گیا کہ شکایت ملنے کے بعد متعلقہ ویڈیو ہٹا دیا گیا تھا۔
نشریات ہٹائے جانے کو مدنظر رکھتے ہوئے این بی ڈی ایس اے نے اس معاملے میں مزید کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم آئندہ نشریات میں احتیاط برتنے کی ہدایت دی۔
اتھارٹی نے ذمہ دار اور غیر جانبدار صحافت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسی اصطلاحات سے گریز کیا جانا چاہیے جو کسی کمیونٹی کو بدنام کریں یا غیر مصدقہ سازشی بیانیے کو فروغ دے۔ اس نے کہا کہ لفظ ’جہاد‘ کے استعمال سے متعلق مجوزہ گائیڈ لائن فرقہ وارانہ رپورٹنگ سے متعلق موجودہ معیارات کو مزید مستحکم کریں گی۔
بتادیں کہ اس سے قبل این بی ڈی ایس اے نے زی نیوز پر جموں و کشمیر میں ایک شخص کی جانب سے ہائی وے کے بیچوں بیچ اپنا ٹرک روک کر نماز ادا کرنے اور ٹریفک جام کرنے سے متعلق جھوٹی خبر نشر کرنے پر ایک لاکھ روپے جرمانہ لگایا کیا تھا۔
اس کے علاوہ زی تیلگو نیوز پر بھی ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ چینل نے ایک پروگرام نشر کیا تھا جس میں گرفتار کیے گئے چند افراد کی ٹرانس جینڈر شناخت کو ’فرضی‘ قرار دیا گیا تھا اور نشریات میں استعمال کی گئی تصویروں کے ماخذ کے بارے میں بھی واضح معلومات فراہم نہیں کی گئی تھی۔





