
دراصل ریونت ریڈی حکومت نے کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے متعدد اسکیمیں چلا رکھی ہیں جن سے کسانوں کو بے انتہا فائدہ پہنچتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہاں زرعی سیکٹر کے افراد کی خود کشی کی شرح صفر پر آگئی ہے۔ حکومت کسانوں کو سرمایہ کاری میں مدد دیتی ہے تاکہ بیج، کھاد اور آبپاشی میں سپورٹ مل سکے۔ اس نے اہل کسانوں کو بارہ ہزار سالانہ دینے کی اسکیم چلا رکھی ہے۔ یہ رقم پہلے دس ہزار سالانہ تھی۔ اس کا مقصد کسانوں کے علاوہ بے زمین کسانوں کو مدد دینا بھی ہے۔ ریونت ریڈی حکومت نے فی کسان خاندان دو لاکھ روپے کا قرض معاف کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے 25 لاکھ کسانوں کو فائدہ پہنچا ہے جنھیں اپنے قرضوں کی ادائیگی میں آسانی ہوئی ہے۔ قرضوں کی معافی مرحلہ وار کی گئی ہے۔
ریڈی حکومت کی ایک اسکیم بے زمین کسانوں کی مدد ہے۔ حکومت نے ان کے لیے ’اندرما آتھمیا بھروسہ‘ اسکیم شروع کی ہے۔ اس کے تحت بے زمین کسانوں کو فی خاندان بارہ ہزار روپے دیے جاتے ہیں۔ حکومت نے ’اچھے چاول‘ کی پیداوار میں اضافے کی بھی اسکیم چلائی ہے۔ اس کے تحت وہ کم سے کم سہارا قیمت پر پانچ سو روپے فی کوئنٹل بونس دیتی ہے۔ خاص طور پر ایس سی ایس ٹی کی فلاح و بہبود کے لیے 2025 میں ایک نئی اسکیم شروع کی گئی ہے۔ اس کا مقصد آبپاشی کے لیے سولر پاور پمپ سیٹ فراہم کرنا ہے۔ اس سے چھ لاکھ ایکڑ اراضی کی آبپاشی ہو سکے گی۔ اس کا ایک مقصد سبز انقلاب کو جاری رکھنے کو یقینی بنانا ہے۔






