بی جے پی میں مودی کے بعد کون؟

AhmadJunaidJ&K News urduMay 2, 2026358 Views


سال2024کے بعد کے واقعات اس سوال کو جنم دیتے ہیں کہ کیا امت شاہ صرف دوسرے نمبر کے لیڈر ہیں، جنہیں نریندر مودی اپنی سیاست مضبوط کرنے کے لیے آگے کر رہے ہیں، یا پھر 2029 پر نظر جمائے بی جے پی-جو 2024 جیسی صورتحال دوبارہ نہیں چاہتی— جانشینی کے کسی منصوبے پر کام کر رہی ہے۔

السٹریشن: پری پَب چکرورتی / دی وائر

گزشتہ22اپریل کو مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کی ووٹنگ سے عین قبل، گریٹر کولکاتہ میٹروپولیٹن ایریا کے جنوبی 24 پرگنہ کے سونارپور ساؤتھ اسمبلی حلقہ میں روڈ شو کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نہیں بلکہ امت شاہ نظر آتے ہیں۔

انتخابی مہم کی گاڑی کی چھت سے ہاتھ ہلاتے ہوئے شاہ کے روڈ شو میں سڑک کے دونوں طرف عوام کا ایک بڑا ہجوم نظر آ رہا تھا۔ اسی دن صبح شاہ نے ایک ویڈیو بھی پوسٹ کیا تھا، جس میں وہ اپنے ان حامیوں سے بات کرتے دکھائی دے رہے تھے جو بانس کی گھیرابندی کے قریب اپنے موبائل فون سے ان کی تصویریں لے رہے تھے۔

مرکز میں لگاتار تین بار حکومت بنانے کے باوجود اس ریاست میں اقتدار حاصل کرنے میں ناکام رہنے والی بی جے پی نے اس بار اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے۔ وزیر داخلہ عوام سے اس فیصلہ کن اسمبلی انتخاب میں بی جے پی کو ووٹ دینے کی اپیل کر رہے تھے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ 5 اگست 2019 کو پارلیامنٹ ہاؤس کے باہر۔ (تصویر: پی ٹی آئی/فائل)

قابل ذکر ہے کہ 5اگست 2019 کی وہ تصویرپارلیامانی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے درج ہو گئی، جب پارلیامانی کارروائی شروع ہونے سے پہلے شاہ پہلی بار وزیر داخلہ بننے کے مہینوں بعداپنے ہاتھ میں پلاسٹک کی فائل اور دستاویزلیے کشمیر میں دفعہ 370 کو ختم کرنےاورجموں و کشمیر کی خصوصی ریاستی حیثیت کو ختم کرتے ہوئے اسے دو الگ الگ مرکزی زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کرنے والا چونکا دینے والا قانون نافذ کرنے کے لیے ایوان میں داخل ہو رہے تھے ۔

یہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے بعد کی بات ہے، جب بی جے پی کا قدچھوٹا ہونے کے ساتھ مودی کی حکومت اقلیت میں آ گئی تھی، تب شاہ کا بڑھتا ہوا عوامی قد واضح طور پر نظر آنے لگا۔ مودی کے بعد دوسرے نمبر کے رہنما کے طور پر ہی نہیں ،بلکہ ایک اسٹار پرچارک کے طور پر بھی سرکار کی حکمت عملی کے معمار، اور ایک علامتی (کٹھ پتلی) نئے صدر کے باوجود پارٹی تنظیم کے انچارج کے طور پر بھی ۔

ان تمام حالات کے درمیان، مودی حکومت میں شاہ کے کردار کو لے کر کئی طرح کے سوال کھڑے ہو سکتے ہیں۔ کیا مودی نے اپنی سیاسی پاری کو مضبوط بنانے کے لیے شاہ کو محض دوسرے نمبر کی حیثیت سے حکومت میں رکھا ہے، یا پھر 2029 کے آئندہ عام انتخابات پر گہری نظر رکھتے ہوئے، 2024 کے انتخابات میں ہونے والے نقصان-یا اس سے بھی بدتر امکانات-کو کم کرنے کے لیے بی جے پی انہیں اقتدار کی جانشینی سونپنے کی تیاری کر رہی ہے؟

جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے سینٹر فار پولیٹکل اسٹڈیز کی ریٹائرڈ پروفیسر ضویا حسن کے مطابق،’بی جے پی، جو ہمیشہ انتخابی موڈ میں رہتی ہے، 2029 کے لیے خود کو دوبارہ منظم کر رہی ہے ‘،خصوصی طور پر ایسے وقت میں جب اندرونی مسائل اور بیرونی دباؤ موجود ہوں، جن میں ڈونالڈ ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ تجارتی اختلافات اورآپریشن سیندور کے بعد ہندوستان کی پوزیشن کو پیش کرنے میں مشکلات، خارجہ پالیسی کی رکاوٹیں، پڑوسی ممالک میں کشیدگی، غزہ میں جاری نسل کشی اور ایران جنگ کے حوالے سے ہندوستان کا رویہ، ان  سب نے مودی کی ’وشو گرو‘ کی شبیہ کو متاثر کیا ہے۔

پروفیسر ضویا حسن کہتی ہیں، ’ہمیشہ انتخابی موڈ میں رہنے والی بی جے پی 2029 کے لیے خود کو دوبارہ تیار کر رہی ہے۔ انتخابی حکمت عملی کے ماہر امت شاہ ایس آئی آر، حد بندی، اور’ون نیشن ون الیکشن‘جیسے کئی ساختیاتی تبدیلیوں کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اکثریتی سیاست اور قومی سلامتی جیسے موضوعات کے حوالے سے عوام کو متاثر کرنے والے دائیں بازو کے ایجنڈے کو تشکیل دینے اور اسے عملی شکل دینے میں مصروف ہیں، جو مغربی بنگال میں انتخابات کو’دراندازی‘کے مسئلے کے گرد مرکوز کرنے میں واضح طور پر نظر آتا ہے۔‘

’شاہ کا کردار اب پارٹی میں دوسرے نمبر سے کہیں زیادہ اہم ہوتا جا رہا ہے؛ سیاسی حکمت عملی بنانے اور حکومت کی ترجیحات طے کرنے میں عموماً ان کی مرکزی حیثیت نظر آتی ہے۔‘

گزشتہ14 اپریل 2026 کی اس تصویر میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات سے قبل گاجول میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے۔تصویر: امت شاہ / ایکس وایا پی ٹی آئی

شاہ کا بڑھتا قد

ایک بڑی ریاست کے انتخابات سے پہلے شاہ کی جانب سے اتنے وسیع پیمانے پر روڈ شوز سے خطاب کرنے کی جڑیں 2024 میں تلاش کی جا سکتی ہیں۔ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کے اسٹار پرچارک کے طور پر شاہ نے ملک بھر میں 188 ریلیاں کیں، جو مودی کی جانب سے کی گئی کل 206 ریلیوں کے بعد سب سے زیادہ تھیں۔

سال2025کے بہار اسمبلی انتخابات میں، جس میں بی جے پی پہلی بار اکیلے سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھری، شاہ نے 36 ریلیاں کیں، جبکہ مودی نے 15 ریلیوں سے خطاب کیا۔ دو دہائیوں تک ریاست کے وزیر اعلیٰ رہنے والے نتیش کمار کو عہدے سے ہٹانے میں کامیاب ہونے کے بعد، وہ شاہ ہی تھے جو نتیش کے راجیہ سبھا کے لیے پرچہ نامزدگی داخل کرتے وقت اُن کے ساتھ بیٹھے نظر آئے۔ انتخابی مہم کے دوران بھی شاہ ہی تھے جنہوں نے عوامی طور پر نتیش کمار کو این ڈی اے اتحاد کے وزیر اعلیٰ کے چہرے کے طور پر اعلان کرنے سے انکار کر کے تنازعہ کھڑا کر دیا تھا۔

پارلیامنٹ میں بھی گزشتہ دو برسوں کے دوران شاہ کئی بار حکومت کے متنازعہ قانون سازی کے کام کے محرک رہے ہیں۔

دسمبر میں، جب اپوزیشن پارلیامنٹ میں ووٹر لسٹ کے متنازعہ ایس آئی آرپر مسلسل بحث کا مطالبہ کر رہی تھی، تب اس بحث کا جواب دینے اور ’غیر قانونی مہاجرین‘کا ہَوَّا  کھڑا کرنے والے شاہ ہی تھے۔ انہوں نے بی جے پی کی قیادت میں قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی ’ڈیٹیکٹ، ڈیلیٹ اینڈ ڈیپورٹ‘پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے اس پورے عمل کا دفاع کیا، جس کے نتیجے میں لاکھوں لوگوں کے نام ووٹر فہرست سے خارج ہوئے اور اُن کی شہریت پر بھی سوالیہ نشان لگ گئے ۔

ابھی گزشتہ ماہ ہی شاہ نے لوک سبھا میں واضح طور پر بتایا تھا کہ آئینی (131واں ترمیمی) بل، جسے پارلیامنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ریزرویشن نافذ کرنے کے نام پر مودی حکومت کی متنازعہ لوک سبھا توسیع اور حد بندی منصوبے کے تحت پیش کیا گیا تھا، اُسے انہوں نے بطور وزیر داخلہ خود آگے بڑھایا تھا۔ یہ آئینی ترمیمی بل پارلیامنٹ میں منظور نہیں ہو ا۔

اسی طرح، حکومت کی جانب سے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کا دفاع کرنے والے بھی امت شاہ ہی تھے، جو اپنے مبینہ جانبدارانہ رویے کے سبب اپوزیشن کی جانب سے لائے گئے عدم اعتماد کی تحریک کا سامنا کر رہے تھے۔

آن لائن تنقید کے حوالے سے مودی حکومت کی بڑھتی عدم برداشت، خاص طور پر بدلتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی حالات کے باوجود آن لائن نیوز پورٹلز، طنز نگاروں، کارٹونسٹوں سے لے کر عام صارفین تک کے خلاف مشترکہ ڈیجیٹل سنسرشپ کے ذریعے سخت کارروائی ہوئی ، جس کی جڑیں 2024 میں ملتی  ہیں، جب امت شاہ کے ماتحت وزارت داخلہ نے ’سہیوگ‘پورٹل کا آغاز کیا تھا۔ یہ پورٹل نہ صرف سرکاری اختیارات بلکہ پولیس کی جانب سے بھی صارفین کو خودکار نوٹس بھیج سکتا ہے اور بغیر کسی وضاحت کے اُن کا مواد ہٹا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق، امت شاہ کا تنظیمی عہدے سے سرکاری عہدے کی طرف بڑھنے کا آغاز 2019 میں ہوا تھا، جب وزیر داخلہ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد انہیں اہم ذمہ داریاں سونپی گئیں، جنہیں انہوں نے مودی کے لیے کامیابی سے انجام دیا۔

نریندر مودی: دی مین، دی ٹائمز نامی کتاب کے مصنف صحافی نیلانجن مکھوپادھیائے کہتے ہیں،’اس کی شروعات 2019 میں یو اے پی اے میں کی گئی ایک نسبتاً کم معروف ترمیم سے ہوئی، جس کے بعد دفعہ 370 کو کمزور کرنا، سی اے اے اور دیگر اقدامات آئے۔ یہی وہ دور تھا جب امت شاہ کی شبیہ ایک ایسے رہنما کے طور پر ابھرنے لگی جو مودی کی سیاست کو سمجھ بھی رہے تھے اور اسے پیش بھی کر رہے تھے۔ ‘

انہوں نے مزید کہا،’گزشتہ چند برسوں میں وزیر داخلہ رہتے ہوئے بھی وہ پارٹی کے کہیں زیادہ بااثر اور صاف گو مقرر اور مہم چلانے والے بن گئے ہیں۔ یعنی وہ عملی طور پر پارٹی کے حقیقی صدر اور ملک کے وزیر داخلہ، دونوں کردار ایک ساتھ ادا کر رہے ہیں۔ مجھے شاہ اور مودی کی سیاست میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ شاہ، مودی کے سچے شاگرد ہیں۔ وہ 2002 سے ہی مودی کے دوسرے نمبر کے رہنما رہے ہیں اور آج بھی وہی کردار نبھا رہے ہیں۔ مودی انہیں جو خاص ذمہ داریاں سونپتے ہیں، وہ انہیں مسلسل پورا کرتے رہے ہیں۔‘

مودی اور شاہ کی طویل تاریخ

دی کارواں کی ایک رپورٹ کے مطابق، بایو کیمسٹری میں گریجویٹ امت شاہ اور نریندر مودی کا ساتھ 1980 کی دہائی سے ہے۔ اس وقت مودی راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے پرچارک تھے، جبکہ شاہ ایک عام سویم سیوک تھے۔ بعد میں شاہ سنگھ کی طلبہ تنظیم اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) سے جڑے اور 1986 میں بی جے پی میں شامل ہو گئے، یعنی مودی سے ایک سال پہلے۔ گجرات کے وزیر اعلیٰ کے طور پر مودی کے 12 سالہ دور حکومت کے دوران شاہ نے ایک وقت میں دس  وزارتوں کی ذمہ داری سنبھالی، جن میں وزارت داخلہ میں جونیئر وزارتی عہدہ بھی شامل تھا۔

سال2016میں جب شاہ دوسری بار بی جے پی کے صدر بنے تھے، تب دی وائر میں لکھتے ہوئے مکھوپادھیائے نے کہا تھا کہ مودی کے عروج میں شاہ کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے جولائی 2010 کے اس دور کو دیکھنا ضروری ہے، جب مرکزی تحقیقاتی بیورو (سی بی آئی) نے سہراب الدین فرضی انکاؤنٹر کیس میں شاہ کے خلاف چارج شیٹ داخل کی تھی، جس کے بعد انہیں گرفتار کیا گیا۔

مکھوپادھیائے نے لکھا تھا کہ گرفتاری سے پہلے شاہ کو ’اس مشینری کا اہم پرزہ سمجھا جا رہا تھا، جو مودی کے بالآخر دہلی پہنچنے کے راستے کو سنبھالے گی،‘ اور ان کی گرفتاری نے’اس رفتار کو کسی حد تک سست کر دیا تھا۔‘

تاہم، شاہ نے دی کارواں سے بات چیت میں اپنے خلاف مقدمات کو’کانگریس کی سازش‘قرار دیا تھا، لیکن اگلے برسوں میں جیسے 2002 کے گجرات فسادات کے بعد مودی سے جڑے معاملات کمزور پڑے، ویسے ہی شاہ کے خلاف مقدمات بھی ختم ہوتے گئے۔ ان میں 2013 کا مبینہ’اسنوپ گیٹ‘معاملہ بھی شامل تھا، جس میں ان پر ایک نوجوان خاتون کا فون ٹیپ کروانے کا الزام تھا۔

سہراب الدین کیس میں ضمانت ملنے اور 2012 میں سپریم کورٹ سے دوبارہ گجرات لوٹنے کی اجازت ملنے کے بعد شاہ نے تنظیم کے اندر اپنی جگہ دوبارہ بنائی اور آہستہ آہستہ مودی کے سب سے قابل اعتماد ساتھی کے طور پر ابھرے۔ 2014 کے لوک سبھا انتخابات کے بعد مودی نے انہیں ’مین آف دی میچ‘کہا تھا۔ اس کے بعد بی جے پی نے کئی اہم ریاستوں میں مسلسل انتخابی فتوحات حاصل کیں اور شاہ نے خود کو ایک مؤثر بی جے پی صدر کے طور پر قائم کیا۔

بعد کے برسوں میں مہاراشٹر (2019) اور مدھیہ پردیش (2023) جیسی ریاستوں میں منتخب حکومتوں کو ہٹانے میں بی جے پی کی کامیاب سیاسی حکمت عملیوں پر بھی شاہ کی چھاپ مانی جاتی ہے۔

14 نومبر 2025 کو نئی دہلی میں واقع بی جے پی ہیڈکوارٹر میں بہار اسمبلی انتخابات میں این ڈی اے کی جیت کے جشن کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ مرکزی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ (بائیں) اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ۔ (فوٹو: پی ٹی آئی/روی چودھری)

مودی کے بھروسے مند، جانشینی کی منصوبہ بندی اور آگے کیا؟

سال2024کے بعد کے برسوں میں اگرچہ عوامی سطح پر شاہ کا قد بڑھتا ہوا نظر آیا ہے، ماہرین کہتے ہیں کہ وہ اب بھی مودی کے معتمد خاص ہیں، اور ہندوتوا پروجیکٹ کے خواب کو حقیقت بنانے کے لیے جو اقدامات کیے گئے ہیں، وہ دونوں کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہیں، نہ کہ صرف شاہ کا اکیلا کام۔

مودی اور شاہ کی جوڑی کو ریاست اور مرکز دونوں سطحوں پر برسوں تک قریب سے دیکھنے والے ایک تجربہ کار صحافی نے بتایا،یہ اقدامات دونوں نے مل کر اٹھائے ہیں۔ شاہ کے پاس تیز دماغ اور خطرہ مول لینے کی بھوک ہے۔ ابھی تک شاہ کو مودی کی طرف سے ہی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں اور انہیں آزادانہ طور پر کام کرنے کا مکمل اختیار نہیں ہے۔ ‘

انہوں نے کہا،’2024 کے لوک سبھا انتخابات کے نتائج مودی کی توقعات کے مطابق نہیں رہے، اسی کے بعد امت شاہ کا کردار زیادہ بڑا دکھائی دینے لگا۔ اگر بی جے پی کو مکمل اکثریت مل گئی ہوتی تو آج والے امت شاہ آپ کو نظر نہ آتے۔ اگر کوئی کامیابی ہو تو مودی چاہتے ہیں کہ اس کا پورا کریڈٹ انہیں ملے، لیکن اگر کوئی ناکامی ہو تو وہ اس سے فاصلہ رکھنا چاہتے ہیں۔ عوامی طور پر ایک قدم پیچھے رہنا مودی کو یہ موقع دیتا ہے کہ فائدہ بھی ملے اور اگر نتائج توقع کے مطابق نہ ہوں تو ان کا نام اس سے دور رہے۔‘

مکھوپادھیائے کہتے ہیں کہ دونوں کے درمیان تعلق کو سمجھنے کے لیے ہمیں صرف عوامی پہلوؤں سے ہٹ کر بھی دیکھنا ہوگا۔’دونوں ایک دوسرے کا کچا چٹھا کچھ جانتے ہیں، اور ایک دوسرے کو دھوکہ نہیں دے سکتے۔ جہاں تک اقتدار کا تعلق ہے، مودی کے پاس مکمل اختیار ہے، کرشماتی شخصیت ہے، وہ ایک ماہر مقرر ہونے کے ساتھ ساتھ مقبول رہنما بھی ہیں۔‘

اب جبکہ مودی 75 سال کی عمر عبور کر چکے ہیں،وہی عمر کی حد جسے بی جے پی نے ’پہلے لال کرشن اڈوانی اور مرلی منوہر جوشی جیسے رہنماؤں پر لاگو کیا تھا،تو 2029 کی راہ امت شاہ کی مودی کے جانشین بننے کی خواہشات اور اس سوال کو بھی جنم دیتی ہے کہ کیا وزیر اعظم واقعی جانشینی کی کوئی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

مودی کے بعد ممکنہ بی جے پی حکومت کے لیے شاہ اکیلے دعویدار نہیں ہیں۔ آر ایس ایس سے جڑے ماہرین کا کہنا ہے کہ میدان ابھی پوری طرح کھلا ہوا ہے اور کم از کم تین دعویدار اس دوڑ میں ہیں-اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ، جو اگلے سال ملک کے سب سے اہم انتخابی ریاست میں مسلسل تیسری مدت کی کوشش کریں گے؛ مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس؛ اور خود امت شاہ۔

مکھوپادھیائے کہتے ہیں، مودی کے بعد آر ایس ایس کو ایک بار پھر سے شروع کرنا ہوگا۔ اس وقت حالات بالکل مختلف ہوں گے۔ دعویدار کئی ہیں۔ سب کچھ اس بات پر منحصر ہوگا کہ مودی کب جاتے ہیں اور کن حالات میں جاتے ہیں۔ اگر وہ انتخابی شکست کے بعد جاتے ہیں تو امت شاہ کے لیے کوئی امکان نہیں بچے گا، کیونکہ اس وقت بی جے پی میں وسیع پیمانے پر تبدیلی کی ضرورت ہوگی اور یہ مانا جائے گا کہ مودی کی سیاست پارٹی کو آگے نہیں لے جا سکی۔ 2004 کے بعد بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا، جب اٹل بہاری واجپئی غیر متعلق ہو گئے تھے۔ لیکن جب تک ’راجا‘ اقتدار میں ہے، اس بارے میں کھل کر بات نہیں کی جا سکتی۔‘

ہندی  میں پڑھنے کے لیے یہاں اور انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...