
رپورٹ کے مطابق تیل، گیس اور کھاد کی اونچی قیمتوں سے حکومتی سبسڈیز کا بوجھ بڑھے گا اور محصولات پر دباؤ پڑے گا۔ اس کے ساتھ ہی پٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی میں کمی سے ٹیکس کی وصولی پر اثر پڑسکتا ہے۔ ہندوستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 2025 میں کم ہو کر 0.4 فیصد رہا لیکن27- 2026 میں اس کے 1.5-1 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ مہنگی درآمدات اور تجارتی رکاوٹوں کی وجہ سے یہ دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ خلیجی خطے سے آنے والی ترسیلات زر، جو کل بہاؤ کا تقریباً 40 فیصد ہے، بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔






