
مغربی بنگال کے نادیہ ڈسٹرکٹ میں ڈی ایم دفتر کے باہر اپنے نام ووٹر لسٹ میں شامل کروانے کے انتظار میں کھڑے لوگ۔ مبینہ طور پر ایس آئی آر کے بعد جاری نئی ووٹرلسٹ میں ان کے نام نہیں تھے۔ تصویر 5 مارچ 2026 کی ہے۔ (فوٹو: پی ٹی آئی/فائل)
کولکاتہ:سخت مقابلے والے انتخابی حلقوں میں نتائج اکثر انتہائی معمولی فرق سے طے ہوتے ہیں، جہاں ہر ووٹ اہمیت رکھتا ہے۔ اس بار تمل ناڈومیں ایک سیٹ صرف ایک ووٹ سے طے ہوئی، جبکہ راجستھان اور مدھیہ پردیش میں لوک سبھا انتخابات کے دوران بھی ایم پی صرف ایک ووٹ کے فرق سے جیتے تھے۔ یعنی ہر ووٹ معنی رکھتا ہے۔
مغربی بنگال میں ’اسپیشل انٹینسیو ریویژن‘(ایس آئی آر)کا دائرہ بہت بڑا تھا۔ ووٹر لسٹ سے کل 91 لاکھ نام حذف کیے گئے۔ ان میں ڈرافٹ نظرِثانی کے دوران اے ایس ڈی ڈی (غائب، منتقل شدہ، فوت شدہ اور ڈپلیکیٹ) زمروں کے تحت حذف کیے گئے 58 لاکھ نام شامل تھے، جبکہ 27 لاکھ ووٹروں کو ’انڈر ایڈجوڈیکیشن‘(یو اے)مقدمات کی عدالتی جانچ کے بعد نااہل قرار دیا گیا۔
جب 28 فروری 2026 کو شائع ہونے والی حتمی ووٹر فہرست میں شامل کیے گئے 1.88 لاکھ نئے ووٹروں کے اعداد و شمار کو اس کے ساتھ دیکھا جائے، تو واضح اشارہ ملتا ہے کہ اس نظرثانی کے عمل نے انتخابی نتائج پر ریاضیاتی طور پر فیصلہ کن اثر ڈالا ہے۔
یہ عمل اس لیے بھی اہم ہو جاتا ہے کیونکہ ایس آئی آر پرسپریم کورٹ میں سماعت کے دوران جسٹس جوائے مالیہ باگچی نے کہا تھا،’اگر 10 فیصد ووٹر ووٹ نہیں ڈالتے اور جیت کا فرق 10 فیصد سے زیادہ ہو، تو کیا ہوگا؟ لیکن فرض کیجیے جیت کا فرق 2 فیصد ہو اور 15 فیصد ایسے ووٹر، جن کی پہچان کی گئی تھی، ووٹ نہ ڈال سکے، تو صورتحال مختلف ہو سکتی ہے… ہم ابھی کوئی رائے نہیں دے رہے، لیکن ہمیں اس پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ ‘
انتخابی حلقوں کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ مغربی بنگال میں ایس آئی آر محض ووٹر لسٹ کی عام صفائی محض نہیں تھا۔ اس کی سیاسی اہمیت اس بات سے سمجھی جا سکتی ہے کہ بڑی تعداد میں ایسی نشستیں تھیں، جہاں حذف کیے گئے ووٹروں کی تعداد جیت کے فرق سے زیادہ تھی۔
یہ بذات خود ثابت نہیں کرتا کہ ہر ایسا نتیجہ ایس آئی آر کی وجہ سے بدلا، لیکن یہ ضرور ظاہر کرتا ہے کہ ووٹر لسٹ کی نظرثانی براہ راست انتخابی مقابلے کے مرکز میں آ گئی تھی۔
ایک سو پچاس نشستوں پر حذف کیے گئے ووٹ جیت کے فرق سے زیادہ
ایس آئی آر کے انتخابی نتائج پر فیصلہ کن اثر کا سب سے مضبوط اشارہ ان نشستوں پر ملا، جہاں جیت کا فرق کل حذف شدہ ووٹروں سے کم تھا۔ یعنی اے ایس ڈی ڈی اور یو اے زمروں کے تحت حذف کیے گئے ووٹروں کی مجموعی تعداد جیت کے فرق سے زیادہ تھی۔
جب اے ایس ڈی ڈی اور یو اے کے تحت حذف شدہ ووٹروں کی تعداد کو یکجا کیا گیا، تو 150 اسمبلی نشستوں پر حذف شدہ ووٹروں کی تعداد حتمی جیت کے فرق سے زیادہ نکلی۔ مغربی بنگال اسمبلی میں کل 294 نشستیں ہیں، یعنی ایسی نشستوں کی تعداد نصف ایوان سے بھی زیادہ ہے۔

ان نشستوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو واضح برتری ملی اور وہ 100 نشستوں پر آگے رہی، جبکہ ترنمول کانگریس 48 نشستوں پر اور کانگریس دو نشستوں پر آگے رہی۔
سال2021میں صورتحال مختلف تھی۔ تب ترنمول کانگریس نے ان 150 نشستوں میں سے 131 جیتی تھیں، جبکہ بی جے پی صرف 19 نشستیں جیت سکی تھی۔
کولکاتا سے متصل دو اضلاع نے ووٹر لسٹ میں کٹوتی کا سب سے بڑا اثر جھیلا، اور کل شدید متاثرہ نشستوں میں تقریباً 30 فیصد حصہ انہی اضلاع کا رہا۔
شمالی 24 پرگنہ میں 2021 میں ترنمول کانگریس کا دبدبہ تھا، جہاں اس نے متاثرہ 26 میں سے 23 نشستیں جیتی تھیں۔ لیکن 2026 میں منظرنامہ مکمل طور پر تبدیل ہوگیا اور بی جے پی نے ان میں سے 21 نشستوں پر قبضہ کر لیا۔
اسی طرح جنوبی 24 پرگنہ میں ترنمول کانگریس نے پہلے تمام 19 متاثرہ نشستیں جیتی تھیں، لیکن ایس آئی آر کے بعد بی جے پی نے بڑی سیندھ لگاتے ہوئے ان میں سے 10 نشستیں اپنے نام کر لیں۔
ان مراکز سے آگے بھی ووٹر لسٹ میں خالص کٹوتی کا اثر مسلم اکثریتی اور سخت مقابلے والے اضلاع میں صاف نظر آیا۔مرشدآبادمیں 2021 میں ترنمول نے متاثرہ 15 میں سے 13 نشستیں جیتی تھیں، لیکن 2026 میں یہ تعداد گھٹ کر صرف 6 رہ گئی۔ یہاں بی جے پی نے 7 نشستیں جیتیں، جبکہ کانگریس کو 2 نشستیں ملیں۔
مشرقی بردوان میں ترنمول کانگریس نے پہلے جیتی ہوئی 13 میں سے 11 نشستیں بی جے پی کے سامنے گنوا دیں۔ یہی رجحان ہاوڑہاورہوگلی میں بھی دیکھا گیا۔ ان دونوں اضلاع کی کل 22 متاثرہ نشستوں پر 2021 میں ترنمول کانگریس کامیاب ہوئی تھی، لیکن حالیہ انتخابات میں بی جے پی نے ان میں سے 14 نشستیں جیت لیں۔
یہ بڑی تبدیلی صرف دیہی یا سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہی بلکہ شہری علاقوں میں بھی اس کے اثرات واضح طور پر نظر آئے۔
مغربی بردھمان میں بی جے پی نے شدید متاثرہ تمام 8 نشستوں پر کامیابی حاصل کی، جن میں سے 5 نشستیں پہلے ترنمول کانگریس کے پاس تھیں۔
کولکاتہ شمال اور جنوب جیسے دارالحکومت کے علاقوں میں بھی بی جے پی نے 11 متاثرہ نشستوں میں سے 6 نشستیں ترنمول کانگریس سے چھین لیں۔ ان میں بھوانی پور بھی شامل ہے، جہاں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی، شوبھیندو ادھیکاری سے ہار گئیں۔ 2021 میں ان نشستوں پر ترنمول کانگریس کا دبدبہ تھا۔
یہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ووٹر لسٹ میں کٹوتی بے ترتیب انداز میں نہیں ہوئی تھی۔ اس کا سب سے زیادہ اثر ان علاقوں پر پڑا جو گزشتہ انتخابات میں ترنمول کانگریس کے مضبوط گڑھ سمجھے جاتے تھے۔ بی جے پی نے ایسے 150 شدید متاثرہ انتخابی حلقوں میں سے 100 پر قبضہ کر لیا۔
ستگچھیا سیٹ اس کی ایک مثال ہے، جہاں بی جے پی امیدوار محض 401 ووٹوں سے جیتا۔ لیکن یہاں حذف کیے گئے ووٹروں کی مجموعی تعداد 26 ہزار سے زیادہ تھی، جس میں 17,669 اے ایس ڈی ڈی اور 8,785 یو اے ووٹر شامل تھے۔
اسی طرح راجارہاٹ نیو ٹاؤن میں جیت کا فرق صرف 316 ووٹ تھا، جبکہ حذف کیے گئے ووٹروں کی تعداد 63 ہزار سے زیادہ تھی۔ رینا سیٹ پر بی جے پی 834 ووٹوں سے آگے رہی، جبکہ حذف کیے گئے ووٹروں کی تعداد 23 ہزار سے اوپر تھی۔
کیا سب سے زیادہ اے ایس ڈی ڈی کٹوتی والے علاقوں نے بی جے پی کو فائدہ پہنچایا؟
اگر صرف اے ایس ڈی ڈی (غیر حاضر، منتقل شدہ، فوت شدہ یا ڈپلیکیٹ) زمرے میں حذف کیے گئے ووٹروں کو دیکھا جائے اور یو اے معاملات کو الگ رکھا جائے، تب بھی اس کا اثر بہت بڑا دکھائی دیتا ہے۔
ریاست کی 110 اسمبلی نشستوں پر صرف اے ایس ڈی ڈی کٹوتی کی تعداد ہی جیت کے فرق سے زیادہ تھی۔
ان نشستوں پر بھی بی جے پی کو غیر متناسب فائدہ ملا۔ پارٹی نے 72 نشستیں حاصل کیں، جو ترنمول کانگریس کی 36 نشستوں سے ٹھیک دوگنی ہیں۔ کانگریس کو 2 نشستیں ملیں۔
ان نشستوں پر بھی تقریباً وہی پرانا رجحان نظر آتا ہے۔ شمالی 24 پرگنہ (19 نشستیں) اور جنوبی 24 پرگنہ (17 نشستیں) اس فہرست میں سب سے اوپر رہے۔

سال2021میں ان 110 نشستوں میں سے 102 پر ترنمول کانگریس کامیاب ہوئی تھی، جبکہ بی جے پی کے پاس صرف 8 نشستیں تھیں۔
اگر دونوں انتخابات کے درمیان براہ راست تبدیلی کو دیکھا جائے تو ان میں سے 66 نشستوں پر اقتدار کی تبدیلی ہوئی۔ ترنمول کانگریس نے یہ تمام 66 نشستیں گنوا دیں۔ بی جے پی نے ان میں سے 64 نشستیں اپنے نام کیں، جبکہ باقی 2 نشستیں کانگریس کو ملیں۔
مجموعی طور پر اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ باقاعدہ اے ایس ڈی ڈی کٹوتی بنیادی طور پر انہی نشستوں پر مرکوز رہی جہاں پہلے ترنمول کانگریس مضبوط تھی۔ جن علاقوں میں یہ کٹوتی جیت کے فرق سے زیادہ رہی، وہاں ترنمول کا پرانا دبدبہ فیصلہ کن طور پر ٹوٹ گیا۔
شمالی اور جنوبی 24 پرگنہ، ان دونوں اضلاع میں اے ایس ڈی ڈی کٹوتی کا سب سے زیادہ اثر دیکھا گیا اور کل متاثرہ نشستوں میں تقریباً ایک تہائی نشستیں یہیں تھیں۔
شمالی 24 پرگنہ میں 2021 میں ترنمول کانگریس نے 19 میں سے 18 نشستیں جیت کر تقریباً کلین سویپ کیا تھا۔ لیکن 2026 میں صورتحال تیزی سے بدلی اور بی جے پی نے ان میں سے 15 نشستوں پر قبضہ کر لیا، جبکہ ترنمول کانگریس صرف 4 نشستوں تک محدود رہ گئی۔
اسی طرح جنوبی 24 پرگنہ میں 2021 میں ترنمول کانگریس نے تمام 16 متاثرہ نشستیں جیتی تھیں۔ لیکن نظرثانی کے بعد بی جے پی نےسیندھ لگاتے ہوئے ان میں سے 8 سخت مقابلے والی نشستیں اپنے نام کر لیں۔
ہاوڑہ اور ہوگلی میں بھی یہی رجحان دیکھنے کو ملا۔ پچھلی بار ترنمول کانگریس نے ہاوڑہ کی تمام 12 اور ہوگلی کی تمام 8 متاثرہ نشستیں جیتی تھیں۔ 2026 میں بی جے پی نے ہاوڑہ میں 6 نشستیں جیت لیں، جبکہ ہوگلی میں 7 نشستوں پر قبضہ کر کے تقریباً پورا ضلع اپنے حق میں کر لیا۔
مسلم اکثریتی مرشد آباد ضلع میں بھی ترنمول کانگریس کو بڑا جھٹکا لگا۔ 2021 میں اس نے 10 میں سے 9 شدید متاثرہ نشستیں جیتی تھیں، لیکن 2026 میں یہ تعداد گھٹ کر صرف 2 رہ گئی۔ یہاں بی جے پی نے 6 نشستیں حاصل کیں، جبکہ باقی 2 نشستیں کانگریس کو ملیں۔
شہری علاقوں میں بھی اس کا گہرا اثر دکھائی دیا۔ مغربی بردھمان میں بی جے پی نے متاثرہ تمام 6 نشستیں جیت لیں، جن میں سے 5 نشستیں پہلے ترنمول کانگریس کے پاس تھیں۔ وہیں کولکاتہ شمال میں بی جے پی نے ترنمول کانگریس کے پچھلے کلین سویپ کو توڑتے ہوئے 4 نشستیں اپنے نام کر لیں۔
مسلم اکثریتی نشستوں پر یو اے کٹوتی سے بی جے پی کو برتری
’یو اے‘ نشان زد ووٹروں کو فہرست سے خارج کیے جانے کا رجحان سیاسی طور پر کہیں زیادہ حساس دکھائی دیتا ہے۔
جیسا کہ پہلے دی وائر نے رپورٹ کیا تھا، 49 اسمبلی نشستوں پر یو اے زمرے میں حذف کیے گئے ووٹروں کی تعداد جیت کے فرق سے زیادہ تھی۔ اے ایس ڈی ڈی زمرے کے مقابلے میں یہاں سیاسی اثر نسبتاً متوازن دکھا۔ بی جے پی نے ایسی 26 نشستیں حاصل کیں، ترنمول کانگریس نے 21، جبکہ کانگریس کو 2 نشستیں ملیں۔ تاہم 2021 کے نتائج سے موازنہ کرنے پر اس کا اثر کافی سنگین نظر آتا ہے۔
ان انتخابی حلقوں میں اوسط مسلم آبادی 33.69 فیصد تھی۔ مرشد آباد سب سے زیادہ متاثرہ ضلع رہا، جہاں 8 نشستوں پر یو اے ووٹروں کی تعداد جیت کے فرق سے زیادہ تھی۔ اس کے علاوہ شمالی 24 پرگنہ، جنوبی 24 پرگنہ، مشرقی بردھمان اور ہگلی بھی متاثرہ اضلاع میں شامل رہے۔
تاریخی طور پر ان اقلیتی اکثریتی علاقوں میں ترنمول کانگریس کا مکمل طور پر دبدبہ رہا تھا۔ 2021 میں اس نے ایسی 49 میں سے 48 نشستیں جیتی تھیں، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے پاس صرف 1 نشست تھی۔

لیکن 2026 کے نتائج نے پوری تصویر بدل دی۔
بی جے پی نے ان 49 نشستوں میں سے 26 پر کامیابی حاصل کی، یعنی اسے براہِراست 25 نشستوں کا فائدہ ہوا۔ دوسری طرف ترنمول کانگریس گھٹ کر صرف 21 نشستوں تک محدود رہ گئی اور اسے مجموعی طور پر 27 نشستوں کا بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ انڈین نیشنل کانگریس نے بھی 2 نشستیں جیت لیں۔
مجموعی طور پر اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ انتہائی قریبی مقابلوں والی نشستوں پر ’یو اے‘ ووٹروں کی کمی ایک اہم وجہ ثابت ہوئی، جس کے باعث ترنمول کانگریس اپنے نصف سے زیادہ مضبوط قلعے بی جے پی سے ہار گئی۔
اس کی کئی مثالیں سامنے آئیں۔ سمسیر گنج میں یو اے کٹوتی 74,775 تھی، جبکہ ترنمول کانگریس کی جیت کا فرق صرف 7,587 ووٹ تھا۔ رانی نگر میں کانگریس 2,701 ووٹوں سے جیتی، لیکن وہاں یو اے کٹوتی 17,140 تھی۔ جنگی پور میں بی جے پی 10,542 ووٹوں سے جیتی، جبکہ یو اے کٹوتی 36,581 تھی۔ اس نشست پر مسلم آبادی 51 فیصد سے زیادہ ہے۔
رینا کی نشست پر بی جے پی 834 ووٹوں سے جیتی، لیکن نااہل قرار دیے گئے یو اے ووٹروں کی تعداد 11,284 تھی۔ یعنی جیت کے فرق اور ہٹائے گئے ووٹروں کے درمیان بہت بڑا فرق تھا۔
اگر یو اے زمرے میں یہ کٹوتیاں نہ ہوتیں تو پانچ نشستوں کے نتائج بدل سکتے تھے۔ چار نشستیں بی جے پی سے ترنمول کانگریس کے حصے میں جاتیں، جبکہ ایک نشست کانگریس سے ترنمول کانگریس کو مل سکتی تھی۔
یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ 2021 کے بعد سیاسی حالات بالکل تبدیل نہیں ہوئے، یا ہٹائے گئے تمام ووٹر ایک ہی سمت میں ووٹ دیتے۔ لیکن جب اتنے بڑے پیمانے پر نام حذف کیے جائیں اور جیت- ہار انتہائی معمولی فرق سے طے ہو، تب یہ دیکھنا ضروری ہو جاتا ہے کہ ایس آئی آر عمل نے کن لوگوں کو ووٹنگ سے باہر کیا۔
نئے ووٹروں کے شامل ہونے سے محدود پیمانے پر بی جے پی کو برتری
جہاں ووٹر لسٹ سے نام ہٹانے کا عمل قریبی مقابلوں کی بڑی کہانی بنا، وہیں نئے ووٹروں کے شامل ہونے سے بھی کچھ نشستوں پرفرق پڑا، اگرچہ اس کا اثر محدود علاقوں تک مرکوز رہا۔
صرف پانچ نشستوں – ستگچھیا، راجارہاٹ نیو ٹاؤن، اندس، رینا اور مندربازار، پر حتمی ووٹر لسٹ میں شامل نئے ووٹروں کی تعداد جیت کے فرق سے زیادہ تھی۔ یعنی نظریاتی طور پر یہ نئے ووٹ آخری نتیجے کو متاثر کر سکتے تھے۔
ان نشستوں پر بی جے پی سب سے بڑی فائدہ اٹھانے والی جماعت رہی اور اس نے 5 میں سے 4 نشستیں حاصل کیں، جبکہ ترنمول کانگریس کو 1 نشست ملی۔ ان علاقوں میں اوسط درج فہرست ذات (ایس سی) آبادی 31.14 فیصد تھی، جس سے اشارہ ملتا ہے کہ نئے ووٹروں کا اثر بنیادی طور پر ایس سی اکثریتی یا نیم دیہی نشستوں پر دکھائی دیا۔
ستگچھیا کی سیٹ پر جیت کا فرق صرف 401 ووٹ تھا، جبکہ ووٹر لسٹ میں 3,023 نئے نام شامل ہوئے تھے۔ 2021 میں یہی نشست ترنمول کانگریس نے 23,318 ووٹوں کے فرق سے جیتی تھی۔
اسی طرح راجارہاٹ نیو ٹاؤن میں جیت کا فرق 316 ووٹ تھا، جبکہ 2,543 نئے ووٹر شامل ہوئے۔ 2021 میں یہاں ترنمول کانگریس 56,432 ووٹوں کے بڑے فرق سے جیتی تھی۔

اگر ایسا نہ ہوا ہوتا…
ایس آئی آر کے حقیقی اثر اور اس کی سیاسی اہمیت کو سمجھنے کے لیے ایک اہم فرضی سوال اٹھتا ہے؛ اگر ووٹر لسٹ میں اتنے بڑے پیمانے پر یہ نظر ثانی نہ ہوئی ہوتی تو 2026 کا انتخابی منظرنامہ کیسا دکھائی دیتا؟
یہ ٹھیک ٹھیک بتانا ناممکن ہے کہ جن ناموں کو شامل یا حذف کیا گیا، ان میں سے کس نے کس امیدوار کو ووٹ دیا ہوتا۔
اسی لیے یہ تجزیہ ایک ریاضیاتی عمل کی طرح ہے۔ اس میں ایس آئی آر کے زیادہ سے زیادہ ممکنہ اثر ، یعنی نئے شامل ہونے والے ووٹر، اے ایس ڈی ڈی کٹوتی اور یو اے کٹوتی ، کو جوڑ کرحتمی جیت کے فرق سے موازنہ کیا گیا ہے۔
تجزیاتی ماڈل-1
پہلے منظرنامے میں یہ فرض کیا گیا ہے کہ جیتنے والے امیدوار کے خلاف بدترین صورتِ حال بنی۔ یعنی جن ووٹروں کے نام حذف کیے گئے، وہ سب دوسرے نمبر پر آنے والے امیدوار کو ووٹ دیتے، جبکہ نئے شامل ہونے والے تمام ووٹر فاتح امیدوار کو ووٹ دیتے۔
اگر 2021 سے 2026 کے درمیان تبدیل ہونے والی 137 نشستوں کو دیکھا جائے تو اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ان میں سے 87 نشستوں پر نتیجہ نظریاتی طور پر ووٹر لسٹ کی نظرثانی سے متاثر ہو سکتا تھا۔ یعنی اگر ایس آئی آر نہ ہوا ہوتا تو یہ 87 نشستیں شاید انہی جماعتوں کے پاس رہتیں جنہوں نے انہیں 2021 میں جیتا تھا۔
ان 87 انتہائی قریبی اور ریاضیاتی طور پر حساس نشستوں پر 2021 میں ترنمول کانگریس کامیاب ہوئی تھی۔ لیکن 2026 میں بی جے پی نے ان میں سے 84 نشستوں پر قبضہ کر لیا، جبکہ کانگریس کو 2 نشستیں ملیں۔
اگر ایس آئی آر نہ ہوا ہوتا تو ریاضیاتی امکان یہ بنتا ہے کہ ترنمول کانگریس ان 87 نشستوں کو بچا سکتی تھی۔
اگر ایسا ہوتا تو اسمبلی کی آخری تصویر کافی مختلف دکھائی دیتی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی مجموعی برتری بھی کافی کم ہو سکتی تھی۔
مثال: جہاں ایس آئی آر کا اثر بہت زیادہ نظر آیا
یہ سمجھنے کے لیے کہ ووٹر لسٹ میں تبدیلیوں نے انتخابی مقابلوں کو کس حد تک متاثر کیا، ان نشستوں کو دیکھا جا سکتا ہے جہاں ترنمول کانگریس کے موجودہ اراکین اسمبلی بھارتیہ جنتا پارٹی سے ہار گئے۔ کئی مقامات پر شامل کیے گئے اور حذف کیے گئے ووٹروں کی تعداد صرف جیت کے فرق سے تھوڑی زیادہ نہیں تھی بلکہ اس سے کئی گنا زیادہ تھی۔
مغربی بنگال کی 294 نشستوں میں سے 150 نشستوں پر حذف کیے گئے رائے دہندگان کی تعداد جیت کے فرق سے زیادہ تھی۔ ان میں سے بی جے پی نے 99 سیٹوں پر جیت درج کی، جبکہ 2021 میں وہ ایسی صرف 19 نشستوں پر کامیاب ہوئی تھی۔
ہیمت آباد اور کش منڈی جیسی نشستوں پر حذف کیے گئے نام جیت کے فرق سے تقریباً تین گنا تھے۔ یہاں قابل ذکر مثال کرندیگھی کی ہے۔ یہاں تقریباً 20 ہزار ووٹوں کی جیت کو عام طور پر واضح مینڈیٹ سمجھا جاتا، لیکن ووٹر لسٹ سے مجموعی طور پر 52,807 نام حذف کیے گئے تھے۔
یہ ماڈل حقیقی ووٹنگ کا دعویٰ نہیں کرتا بلکہ صرف ممکنہ اثرات کو ناپنے کی کوشش کرتا ہے۔ پھر بھی یہ اشارہ دیتا ہے کہ ووٹر لسٹ میں کی گئی تبدیلیاں محض انتظامی کارروائی نہیں تھیں بلکہ اتنی بڑی تھیں کہ قریبی مقابلے والی کئی نشستوں کے آخری نتائج کو متاثر کر سکتی تھیں۔
تجزیاتی ماڈل-2
دوسرے منظرنامے میں’ نو-ایس آئی آر کاؤنٹر فیکچوئل ماڈل‘استعمال کیا گیا۔ اس میں یہ فرض نہیں کیا گیا کہ حذف کیے گئے تمام ووٹر فاتح امیدوار کے خلاف ووٹ دیتے۔ اس کے بجائے ہر نشست پر 2021 کے اسمبلی انتخابات کے ووٹنگ پیٹرن کو بنیاد بنایا گیا۔
یہ ماڈل تین مراحل میں کام کرتا ہے۔
پہلا، یو اے اور اے ایس ڈی ڈی زمرے میں حذف کیے گئے تمام ووٹروں کو دوبارہ ووٹر لسٹ میں شامل کیا گیا۔
دوسرا، بحال کیے گئے ان ووٹروں کو 2021 کے پارٹی کے لحاظ سے ووٹ شیئر کے مطابق مختلف جماعتوں میں تقسیم کیا گیا۔ یعنی یہ مانا گیا کہ حذف کیے گئے ووٹر بھی 2021 جیسا ہی ووٹنگ رجحان رکھتے۔
تیسرا، ایس آئی آر کے دوران جو نئے ووٹر شامل کیے گئے تھے، انہیں 2026 کے ووٹنگ پیٹرن کے مطابق ایڈجسٹ کیا گیا تاکہ نتائج پر صرف ووٹر لسٹ میں حذف اور اضافے کے اثرات کو الگ کرکے دیکھا جا سکے۔

یہ کسی ووٹر کے حقیقی رویے کا دعویٰ نہیں ہے۔ یہ نشست کی سطح پر کیا گیا ایک تجربہ ہے جس کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ کیا حذف کیے گئے ناموں کی تعداد اور ان کا ممکنہ رجحان اتنا اثر ڈال سکتا تھا کہ نتائج بدل جاتے۔
اس فرضی ’نو-ایس آئی آر‘ماڈل کے تحت 11 نشستوں کے نتائج بدلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، اور تمام نشستیں ترنمول کانگریس کے حق میں جاتی ہیں۔ ایسی صورت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی نشستیں 207 سے کم ہو کر 198 رہ جاتیں، جبکہ ترنمول کانگریس 80 سے بڑھ کر 91 تک پہنچ جاتی۔ کانگریس کی 2 نشستیں کم ہو کر صفر ہو جاتیں۔ یہ تجزیہ 293 نشستوں پر کیا گیا ہے کیونکہ فالتا نشست کی ووٹوں کی گنتی ابھی باقی ہے۔
ان 11 نشستوں میں سے 9 نشستیں بھارتیہ جنتا پارٹی سے ترنمول کانگریس کو ملتیں، جبکہ 2 نشستیں کانگریس سے ترنمول کانگریس کے حصے میں آتیں۔ ان میں فرکا، جنگی پور، رانی نگر، راجارہاٹ نیو ٹاؤن، ستگچھیا، ٹالی گنج، جوراسانکو، کاشی پور-بیلگچھیا، چمپدانی، جنگی پاڑہ اور رینا شامل ہیں۔
کچھ مثالیں خاص طور پر توجہ کھینچتی ہیں۔ راجارہاٹ نیو ٹاؤن میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی 316 ووٹوں کی برتری، ترنمول کانگریس کی تقریباً 14,959 ووٹوں کی برتری میں بدل جاتی۔ ٹالی گنج میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی 6,013 ووٹوں کی برتری، ترنمول کانگریس کی 3,603 ووٹوں کی برتری بن جاتی۔ جنگی پور میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی 10,542 ووٹوں کی برتری، ترنمول کانگریس کی 12,003 ووٹوں کی برتری میں تبدیل ہو جاتی۔
تو ماحصل کیا ہے؟
ایس آئی آر نے انتخابات کے مجموعی نتائج کو مکمل طور پر نہیں بدلا؛ ہمارے ’نو-ایس آئی آر‘اندازے میں بھی بھارتیہ جنتا پارٹی آگے رہتی۔ لیکن کئی اہم اور قریبی مقابلے والی نشستوں پر اس کا اثر فیصلہ کن ہو سکتا تھا۔
اعداد و شمار اشارہ دیتے ہیں کہ نام حذف کیے جانے کے عمل، خاص طور پر اے ایس ڈی ڈی زمرے کی حذف کاری، سے کم فرق والی نشستوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی کو نسبتاً فائدہ ملا، جبکہ یو اے حذف کاری کا اثر اقلیتی اکثریتی علاقوں میں زیادہ نظر آیا۔
ایسی ریاست میں جہاں کئی نشستوں کا فیصلہ بہت کم فرق سے ہوتا ہے، ایس آئی آر صرف ایک انتظامی عمل نہیں رہا بلکہ اپنے شماریاتی اثرات کی وجہ سے خود ایک انتخابی عوامل بن گیا۔
انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔






