
مدھیہ پردیش کے دھار میں بھوج شالہ کی جگہ پر 23 جنوری 2026 کو بسنت پنچمی کے موقع پر ہندوؤں کا ہجوم امڈ۔ (تصویر: پی ٹی آئی)
مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے نے —ـــ جس میں دھار کے تاریخی بھوج شالہ-کمال مولا مسجد کمپلیکس کو ہندو عبادت گاہ قرار دیتے ہوئے ہندو فریق کے حق میں فیصلہ سنایا گیا —ـ ـہندوستان میں مذہبی مقامات سے متعلق ایک نئی اور نہایت خطرناک بحث کو جنم دے دیا ہے۔
عدالت نے اس مقام کو دیوی سرسوتی سے منسوب کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا کہ یہ دراصل ایک قدیم مندر تھا۔
حالانکہ تاریخی ریکارڈ، نوآبادیاتی دور کے سروے، فارسی کتبے اور آثارِ قدیمہ کی رپورٹس اس دعوے کی مکمل تائید نہیں کرتے۔
یہ فیصلہ محض ایک عبادت گاہ یا زمین کے تنازعہ تک محدود نہیں ہے۔ اس نے ہندوستان کے آئینی اور قانونی ڈھانچے، خصوصاً ’مذہبی مقامات ایکٹ 1991‘اور’لاء آف لیمیٹیشن‘جیسے بنیادی اصولوں کو ایک نئے امتحان میں ڈال دیا ہے۔
اگر عدالتیں آثارِ قدیمہ، اساطیری روایتوں یا مذہبی عقیدوں کی بنیاد پر صدیوں پرانے دعووں کو تسلیم کرنے لگیں، تو پھر پورے برصغیر میں شاید ہی کوئی تاریخی عمارت، عبادت گاہ یا آثارِ قدیمہ کا مقام تنازعہ سے محفوظ رہ سکے۔
کمال مولا مسجد، جسے اب’بھوج شالہ‘کے نام سے زیادہ پکارا جاتا ہے، صدیوں تک ایک فعال مسجد کے طور پر استعمال ہوتی رہی۔
مسلمان وہاں دو ہزار کی دہائی کے اوائل تک باقاعدگی سے نماز ادا کرتے رہے ہیں۔
جب ہندو تنظیموں نے اس مقام پر اپنے دعوے تیز کیے، تو انتظامیہ نے سن 2003 میں ایک مشترکہ انتظام متعارف کرایا، جس کے تحت مسلمانوں کو جمعہ کے روز نماز کی اجازت دی گئی جبکہ ہندوؤں کو منگل کے دن پوجا کی اجازت دی گئی۔
مگر اس انتظام نے تنازعہ ختم کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ بنا دیا، کیونکہ دونوں فریق اسے اپنی جزوی فتح کے طور پر دیکھنے لگے۔
تاریخ داں ڈاکٹر روچیکا شرما نے اپنی ایک مفصل تحقیق اور لیکچر میں اس پورے بیانیے کو چیلنج کیا ہے۔
ان کے مطابق،’اس عمارت کا اصل نام کمال مولا کی مسجد ہے‘اور تاریخی ریکارڈز میں اسے’بھوج شالہ‘کے طور پر بیان نہیں کیا گیا۔
ڈاکٹر شرما نے انیسویں صدی کے اوائل میں کیے گئے برطانوی سرویز کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ برطانوی افسر جان میلکم نے جب دھار کا تفصیلی سروے کیا، تو انہوں نے راجہ بھوج سے وابستہ کئی داستانوں کا ذکر ضرور کیا، مگر اس متنازعہ عمارت کے ساتھ ان کی کسی وابستگی کا کوئی حوالہ نہیں دیا۔
اس کے برعکس، میلکم نے اس ڈھانچے کو ایک’خستہ حال مسجد‘قرار دیا تھا، جس میں منبر، محراب اور دیگر اسلامی طرزِ تعمیر کے عناصر موجود تھے۔
شرما کے مطابق، بعد کی برطانوی رپورٹس بھی اسی حقیقت کی تائید کرتی ہیں۔ انیسویں صدی کے وسط میں برطانوی افسر ولیم کنکیڈ نے اس مقام کو کمال الدین مالوی کے’روضہ‘کے قریب واقع ایک’چھوٹی مسجد‘قرار دیا۔
بعد ازاں’ایپی گرافیہ انڈو مسلمیکا‘میں شائع فارسی کتبوں کے تراجم میں اس مقام کو’روضہ قطبِ کمال‘کہا گیا، جبکہ ایک کتبے میں یہ درج ہے کہ دلاور خان غوری نے سلطنتِ دہلی کے دور میں اس مسجد کی مرمت کروائی تھی۔
ڈاکٹر شرما کا استدلال ہے کہ یہ تمام شواہد اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ یہ مقام ایک مسجد اور صوفی بزرگ کمال الدین مالوی کے مقبرے کا احاطہ تھا، نہ کہ راجہ بھوج کا سنسکرت مدرسہ۔
وہ کہتی ہیں کہ’اب تک ہم یہی جانتے ہیں کہ یہ ایک مقبرہ اور مسجد کا احاطہ تھا، اور کم از کم انیسویں صدی کے پہلے نصف تک اس کا راجہ بھوج سے کوئی تعلق ظاہر نہیں ہوتا۔‘
وہ اس عمارت کے فنِ تعمیر کی طرف بھی توجہ دلاتی ہیں۔ ان کے مطابق، یہ ایک’ہائپو اسٹائل مسجد‘ہے، جس میں ستونوں کی قطاریں، محرابیں اور منبر شامل ہیں، جو اسلامی فنِ تعمیر کی نمایاں خصوصیات ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ قرونِ وسطیٰ کے ہندوستان میں قدیم عمارتوں کے پتھر یا ستون دوبارہ استعمال کرنا ایک عام روایت تھی، اس لیے مسجد میں ہندو یا جین طرز کے ستونوں کی موجودگی بذاتِ خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ مسجد کسی مندر کو گرا کر تعمیر کی گئی تھی۔
انہوں نے اس دعوے کو بھی چیلنج کیا کہ یہ مقام کبھی سرسوتی مندر تھا۔ ان کے مطابق جس مجسمے کو بعد میں’بھوج کی سرسوتی‘کہا گیا، اس کے کتبے اسے’امبیکا‘یعنی جین مذہب کی دیوی قرار دیتے ہیں۔ مزید یہ کہ اس مجسمے کو مسجد کے احاطے سے جوڑنے کا بھی کوئی براہِ راست ثبوت موجود نہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ’بھوج شالہ‘کی اصطلاح بھی تاریخی طور پر بہت نئی ہے۔ شرما کے مطابق، یہ نام پہلی بار بیسویں صدی کے آغاز میں ایک رپورٹ میں استعمال ہوا، جس کا عنوان تھا؛’کمال مولا مسجد سے ملنے والے ڈرامائی کتبے کا خلاصہ‘۔ یعنی جس نام پر آج پورا تنازعہ کھڑا کیا جا رہا ہے، وہ خود نوآبادیاتی دور کی پیداوار ہے۔
زمین کی عمر تقریباً چار اعشاریہ پانچ چار بلین سال مانی جاتی ہے، جبکہ انسانی تہذیب ہزاروں برسوں سے مختلف شکلوں میں ارتقا پذیر رہی ہے۔ اس دوران بے شمار قومیں، مذاہب اور تہذیبیں ابھریں، زوال کا شکار ہوئیں اور نئی تہذیبوں کے نیچے دفن ہوگئیں۔
دنیا کا شاید ہی کوئی خطہ ایسا ہو جہاں کھدائی کرنے پر قدیم آبادیوں یا عبادت گاہوں کے آثار نہ ملتے ہوں۔ اگر انہی آثار کو موجودہ ملکیتی یا مذہبی حق کی بنیاد بنایا جائے، تو پھر ہر شہر، ہر عبادت گاہ اور ہر تاریخی عمارت ایک مستقل مقدمے میں تبدیل ہوسکتی ہے۔
ہندوستان کی اپنی تاریخ اس کی واضح مثال ہے۔ ایک دور میں بدھ مت پورے برصغیر میں غالب مذہب تھا۔ بعد ازاں آدی شنکر آچاریہ نے ہندو مذہب کے احیا کی تحریک چلائی اور متعدد بدھ خانقاہوں اور عبادت گاہوں کو مندروں میں تبدیل کیا گیا۔
اگر آج کے پیمانے سے تاریخ کو کھنگالا جائے، تو پھر سوال اٹھ سکتا ہے کہ کتنے موجودہ مندر بدھ آثار پر قائم ہیں؟ اور اگر ہر تہذیبی پرت کو بنیاد بناکر فیصلے ہونے لگیں، تو تنازعات کا یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔
اسی خطرے کے پیش نظر دنیا کے تقریباً تمام قانونی نظاموں میں’لاء آف لیمیٹیشن‘یا قانونِ حد کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔ اس قانون کا مقصد یہی ہے کہ صدیوں پرانے دعووں کی بنیاد پر معاشرے مستقل انتشار کا شکار نہ ہوں۔
قانون کہتا ہے کہ ایک مخصوص مدت گزرنے کے بعد کسی جائیداد یا ملکیت پر دعویٰ ناقابلِ سماعت ہوجاتا ہے۔ ورنہ ہر نسل اپنے آباؤ اجداد کے نام پر نئی قانونی جنگیں چھیڑ سکتی ہے۔
بابری مسجد کی شہادت کے بعد یہ دلیل دی گئی تھی کہ ایودھیا تنازعہ ایک ’استثنائی‘معاملہ ہے اور اس کے بعد دیگر عبادت گاہیں محفوظ رہیں گی۔ اسی پس منظر میں ہندوستانی پارلیامنٹ نے’مذہبی مقامات ایکٹ‘منظور کیا تھا، جس کے تحت بابری مسجد کے علاوہ تمام عبادت گاہوں کی وہی حیثیت برقرار رکھنے کی ضمانت دی گئی جو آزادی کے وقت تھی۔
اس وقت کہا گیا کہ اب مستقبل میں کسی مسجد، مندر یا دیگر مذہبی مقام کی تاریخی حیثیت کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکے گا۔
مگر بھوج شالہ-کمال مولا مسجد کے فیصلے نے اس یقین کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ اس سے پہلے گیان واپی مسجد اور متھرا عیدگاہ جیسے معاملات بھی عدالتوں میں پہنچ چکے ہیں۔
ہندو قوم پرست تنظیمیں مسلسل یہ دعویٰ کرتی رہی ہیں کہ ملک بھر میں ہزاروں مساجد، مزارات، قبرستان اور وقف املاک دراصل قدیم ہندو عبادت گاہوں کی جگہ تعمیر کیے گئے تھے۔
وشو ہندو پریشد نے تو یہاں تک دعویٰ کیا ہے کہ تقریباً پچیس ہزار مقامات متنازعہ ہیں۔
یہ صورتحال برصغیر کی تاریخ کے ایک اور اہم مقدمے، لاہور کی مسجد شہید گنج، کی یاد تازہ کرتی ہے۔ لاہور پر سکھوں کے قبضے کے بعد اس مسجد کو گوردوارے میں تبدیل کردیا گیا تھا۔
جب پنجاب برطانوی اقتدار کے تحت آیا تو مسلمانوں نے مسجد کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔ مقدمہ عدالتوں سے ہوتا ہوا پریوی کونسل تک پہنچا، مگر ہر عدالت نے’لاء آف لیمیٹیشن‘کی بنیاد پر فیصلہ سکھوں کے حق میں دیا۔
مسجد کے متولی نور احمد کئی دہائیوں تک عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹاتے رہے، مگر ہر بار یہی کہا گیا کہ چونکہ ایک طویل عرصے سے عمارت کا استعمال تبدیل ہوچکا ہے، اس لیے اب پرانا دعویٰ قابلِ سماعت نہیں۔ بعد میں جب مسجد کی عمارت منہدم کردی گئی تو لاہور میں شدید احتجاج ہوا، لوگ مارے گئے، کرفیو نافذ ہوا اور ماحول انتہائی کشیدہ ہوگیا۔
مسلم لیگ کے بعض ارکان نے اسمبلی کے ذریعے اس عمارت کو دوبارہ مسلمانوں کے حوالے کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔
معروف قانون داں اور مؤرخ اے جی نورانی، جو عمومی طور پر محمد علی جناح کی سیاست کے سخت ناقد سمجھے جاتے تھے، اس معاملے میں ان کی کھل کر تعریف کرتے ہیں۔
نورانی کے مطابق، جناح نے مسجد شہید گنج کے قضیے کو سیاسی فائدے یا عوامی جذبات بھڑکانے کے لیے استعمال نہیں کیا۔ شدید عوامی دباؤ اور مذہبی اشتعال کے باوجود انہوں نے قانون کی عملداری کو ترجیح دی اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ اگر عدالتوں کے فیصلوں کو مذہبی جذبات کی بنیاد پر رد کیا جانے لگے، تو پورا قانونی نظام کمزور پڑ جائے گا۔
نورانی کے بقول، یہی طرزِ عمل جناح کو ایک ذمہ دار آئینی سیاستدان کے طور پر ممتاز کرتا ہے۔
آج پاکستان بننے کے کئی عشروں بعد بھی لاہور کا وہ گوردوارہ اپنی جگہ موجود ہے۔ شدید مذہبی جذبات کے باوجود کسی حکومت یا مذہبی جماعت نے برطانوی دور کے عدالتی فیصلے کو کالعدم قرار دے کر اسے دوبارہ مسجد بنانے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔
اس مثال سے واضح ہوتا ہے کہ ریاستیں صرف جذبات سے نہیں بلکہ قانون کی عملداری سے چلتی ہیں۔
ہندوستان میں آج جو راستہ اختیار کیا جا رہا ہے، وہ صرف مسلمانوں یا چند مساجد کا مسئلہ نہیں۔ اگر عدالتیں تاریخ، عقیدے اور اساطیری روایتوں کی بنیاد پر صدیوں پرانے دعووں کو تسلیم کرنے لگیں، تو پھر اس کی کوئی حد باقی نہیں رہے گی۔ کل کوئی اور گروہ کسی اور مقام پر اسی منطق کے تحت دعویٰ کرسکتا ہے۔
اس طرح ریاست کے ادارے مستقل مذہبی تنازعات کے میدان میں تبدیل ہوجائیں گے۔
تاریخ کو محفوظ رکھنا ضروری ہے، مگر تاریخ کے نام پر حال کو یرغمال بنانا کسی بھی معاشرے کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔
قانون کی بالادستی ہی وہ واحد اصول ہے جو متنوع معاشروں کو انتشار اور انتقام کی سیاست سے بچا سکتا ہے۔






