
ان کا کہنا تھا کہ “متعدد مقامی خودمختار اداروں کے حلقوں میں ہمارے ووٹوں کی تعداد بہت محدود ہے، جو مطلوبہ تعداد سے بہت کم ہے۔ اس لیے ان نشستوں پر کتنی توجہ دی جانی چاہیے، اس پر بات چیت کی جا رہی ہے کہ کون الیکشن لڑے گا اور کیا حکمت عملی اپنائی جائے گی”۔






