
یہ عرضی اس بنیاد پر دائر کی گئی تھی کہ سیاسی جماعتیں انتخابی مہم کے دوران عوام کو متاثر کرنے کے لیے سرکاری وسائل کے استعمال کے وعدے کرتی ہیں، جنہیں بعض حلقوں میں عام طور پر ’ریوڑیاں‘ بھی کہا جاتا ہے۔ عرضی گزار کا مؤقف تھا کہ اس طرح کے وعدے انتخابی عمل کی شفافیت کو متاثر کرتے ہیں اور انہیں بدعنوان طرزِ عمل کے زمرے میں شمار کیا جانا چاہیے، کیونکہ یہ ووٹروں کو براہِ راست متاثر کرنے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔
عرضی میں عدالت سے یہ بھی مانگ کی گئی تھی کہ الیکشن کمیشن کو ہدایت دی جائے کہ وہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے کیے جانے والے ایسے وعدوں پر سختی سے روک لگائے اور اس سلسلے میں واضح رہنما اصول طے کرے۔ مزید یہ کہ جو جماعتیں ان اصولوں کی خلاف ورزی کریں، ان کے خلاف مؤثر کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ انتخابی عمل کی غیر جانب داری برقرار رکھی جا سکے۔





