
اب دونوں تنظیموں کی یہ درخواست ہے کہ لیہ میں ہوئی ہنگامہ آرائی کی سپریم کورٹ کے جج سے تحقیقات کرائی جائیں۔ یہی مذاکرات کے لیے ان کی شرط بھی ہے۔ سونم وانگچک کی رہائی کیا مذاکرات کی شرط ہے؟ اس پر اپیکس باڈی کے شریک صدر سیرنگ دورجے نے نیو نیشنل ہیرالڈ کو بتایا کہ یہ ہماری مانگ ہے، مگر مذاکرات کی شرط نہیں۔ ہماری مانگ ہے کہ نہ صرف وانگچک بلکہ ان 50 سے زائد نوجوانوں کو بھی غیرمشروط طور پر رہا کیا جائے، جنہیں ہنگامے کے بعد لیہ سے گرفتار کیا گیا۔ ڈیموکریٹک الائنس کے سجاد حسین کرگلی بھی یہی دہراتے ہیں۔
دوسری طرف، وزارت داخلہ کہتی ہے کہ مذاکرات اپنے مقررہ وقت پر ہوں گے لیکن اگر تنظیمیں مذاکرات کا بائیکاٹ کریں تو پھر مذاکرات کس سے ہوں گے؟ سجاد حسین کرگلی کہتے ہیں، ’’ہم نہیں جانتے کہ وہ کس سے بات کریں گے۔‘‘
موجودہ عدم اعتماد کے ماحول میں، چاہے شرائط پوری کر دی جائیں، کیا مذاکرات واقعی معنی خیز ہو سکیں گے؟ سیرنگ دورجے کہتے ہیں، ’’ہم مذاکرات کے لیے جائیں گے تو کھلے ذہن کے ساتھ جائیں گے، یہ سوچ کر کہ حل نکل سکتا ہے۔ اس کے بغیر مذاکرات کا کوئی مطلب نہیں ہوگا۔‘‘






