امیدوں سے مایوسی تک کا سفر

AhmadJunaidJ&K News urduOctober 5, 2025389 Views


اب دونوں تنظیموں کی یہ درخواست ہے کہ لیہ میں ہوئی ہنگامہ آرائی کی سپریم کورٹ کے جج سے تحقیقات کرائی جائیں۔ یہی مذاکرات کے لیے ان کی شرط بھی ہے۔ سونم وانگچک کی رہائی کیا مذاکرات کی شرط ہے؟ اس پر اپیکس باڈی کے شریک صدر سیرنگ دورجے نے نیو نیشنل ہیرالڈ کو بتایا کہ یہ ہماری مانگ ہے، مگر مذاکرات کی شرط نہیں۔ ہماری مانگ ہے کہ نہ صرف وانگچک بلکہ ان 50 سے زائد نوجوانوں کو بھی غیرمشروط طور پر رہا کیا جائے، جنہیں ہنگامے کے بعد لیہ سے گرفتار کیا گیا۔ ڈیموکریٹک الائنس کے سجاد حسین کرگلی بھی یہی دہراتے ہیں۔

دوسری طرف، وزارت داخلہ کہتی ہے کہ مذاکرات اپنے مقررہ وقت پر ہوں گے لیکن اگر تنظیمیں مذاکرات کا بائیکاٹ کریں تو پھر مذاکرات کس سے ہوں گے؟ سجاد حسین کرگلی کہتے ہیں، ’’ہم نہیں جانتے کہ وہ کس سے بات کریں گے۔‘‘

موجودہ عدم اعتماد کے ماحول میں، چاہے شرائط پوری کر دی جائیں، کیا مذاکرات واقعی معنی خیز ہو سکیں گے؟ سیرنگ دورجے کہتے ہیں، ’’ہم مذاکرات کے لیے جائیں گے تو کھلے ذہن کے ساتھ جائیں گے، یہ سوچ کر کہ حل نکل سکتا ہے۔ اس کے بغیر مذاکرات کا کوئی مطلب نہیں ہوگا۔‘‘

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...