بندر عباس پر امریکی حملے کے بعد مغربی ایشیا میں کشیدگی مزید بڑھتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے کویت میں واقع امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔ اسلامک ریولیوشنری گارڈز (آئی آر جی سی) کا دعویٰ ہے کہ اس نے کویت کے علی السالم ایئربیس پر میزائل حملہ کیا ہے، جہاں امریکی فوج موجود ہے۔
حملے کے بعد کویت کی فوج نے ایئربیس کے آس پاس ایئر ڈیفنس سسٹم ایکٹو کر دیے۔ ساتھ ہی شہریوں سے حفاظتی رہنما خطوط پر عمل کرنے اور الرٹ رہنے کی اپیل کی گئی ہے۔ ایران کی ’تسنیم‘ نیوز ایجنسی کے مطابق جمعرات کی صبح امریکی فوج نے بندر عباس کے پاس موجود ایک ڈرون لانچنگ سائٹ کو نشانہ بنا کر حملہ کیا۔ ایران نے اس کارروائی کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا اور تقریباً 2 گھنٹے بعد کویت میں امریکی ٹھکانے پر جوابی حملہ کر دیا۔
غور طلب ہے کہ اپریل میں امریکہ اور ایران کے درمیان آفیشیل طور پر جنگ بندی کا اعلان ہوا تھا۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جوہری معاہدے اور سیکورٹی کے مسائل پر بات چیت جاری تھی۔ اسی سلسلے میں اس ہفتے ایرانی وفد کویت پہنچا تھا، جہاں آخری مسودے پر بات چیت چل رہی تھی۔ تاہم حالات اس وقت مزید بگڑ گئے جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کابینہ کے اجلاس کے بعد واضح طور پر کہا کہ امریکہ کسی بھی صورت میں ایران کے افزودہ یورینیم کے پروگرام پر سخت کنٹرول چاہتا ہے۔ دوسری طرف ایران اس مطالبے کو تسلیم کرنے کے لیے تیار دکھائی نہیں دے رہا۔ اس کے فوراً بعد امریکی فوج نے بندر عباس کے پاس کارروائی کرتے ہوئے مبینہ طور پر 4 ایرانی ڈرون اور ایک لانچنگ ٹھکانے کو تباہ کر دیا۔ امریکہ کی جانب سے اسے دفاعی کارروائی قرار دیا گیا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بندر عباس کے پاس سے گزرنے والے ایک امریکی تجارتی جہاز کی سیکورٹی امریکی فوج کر رہی تھی۔ اسی دوران ایران کی طرف سے اس جہاز کو نشانہ بناتے ہوئے 4 ڈرونز چھوڑے گئے، جنہیں امریکی فوج نے ہوا میں ہی مار گرایا۔ اس کے بعد ڈرون لانچر سائٹ پر حملہ کیا گیا۔ ایران نے اس کارروائی کو اکساوے والی فوجی اقدام قرار دیتے ہوئے سخت جواب دینے کی وارننگ دی ہے۔ جبکہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو دیکھتے ہوئے عالمی برادری کی تشویش بھی بڑھ گئی ہے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


































