
بین الاقوامی سطح پر بھی اس خبر کے بعد خاصی سرگرمی دیکھی جا رہی ہے اور مختلف ممالک اس عمل پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب رہتے ہیں تو نہ صرف امریکہ اور ایران کے تعلقات میں بہتری آ سکتی ہے بلکہ اس کے مثبت اثرات پورے خطے پر مرتب ہونے کی توقع ہے۔
فی الحال تمام نگاہیں جمعرات پر مرکوز ہیں، جہاں یہ طے ہوگا کہ آیا یہ مذاکرات کسی بڑی پیش رفت کی بنیاد بنتے ہیں یا نہیں۔ تاہم ابتدائی طور پر یہ پیش رفت امید کی ایک نئی کرن کے طور پر سامنے آئی ہے، جو خطے میں امن کے امکانات کو تقویت دے سکتی ہے۔





