اسمبلی انتخاب میں شکست کے بعد ٹی ایم سی میں بغاوت کا سلسلہ جاری، مزید 2 کونسلروں نے دیا استعفیٰ

AhmadJunaidJ&K News urduMay 28, 2026360 Views


سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی تک بلدیات اور میونسپل کارپوریشنز ٹی ایم سی کی سب سے مضبوط سیاسی طاقت رہے، لیکن اب وہی ڈھانچہ دباؤ میں نظر آ رہا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ٹی ایم سی کی سربراہ ممتا بنرجی / آئی اے این ایس</p></div><div class="paragraphs"><p>ٹی ایم سی کی سربراہ ممتا بنرجی / آئی اے این ایس</p></div>

i

user

google_preferred_badge

مغربی بنگال اسمبلی انتخاب میں اقتدار گنوانے کے بعد ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کو اب ایک کے بعد ایک سیاسی جھٹکے لگتے جا رہے ہیں۔ پارٹی کی شکست کے بعد شروع ہونے والا اندرونی عدم اطمینان اب ٹی ایم سی کے سب سے مضبوط سمجھے جانے والے شہری اداروں اور میونسپل کارپوریشنز میں بھی نظر آنے لگا ہے۔ کولکاتہ میونسپل کارپوریشن کے قدآور کونسلر سشانت گھوش اور اروپ چکرورتی نے بدھ کے روز اپنے اہم عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔ سشانت گھوش نے بورو-12 کے چیئرمین کے عہدے سے استعفیٰ دیا، جبکہ اروپ چکرورتی نے میونسپل کارپوریشن کی اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کے عہدے سے ہٹنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم دونوں رہنماؤں نے کونسلر کا عہدہ برقرار رکھا ہے۔

استعفیٰ دینے کے ساتھ ہی دونوں لیڈران نے پارٹی قیادت پر کھل کر ناراضگی کا اظہار بھی کیا۔ اروپ چکرورتی نے کہا کہ ’’شکست کو قبول کرنا چاہیے۔ اگر ہم ہار ماننے کو تیار نہیں ہوں گے، تو گزشتہ کامیابیوں کا بھی کوئی مطلب نہیں رہے گا۔‘‘ سیاسی حلقوں میں اسے پارٹی قیادت پر براہ راست حملہ مانا جا رہا ہے۔ دونوں لیڈران نے الزام عائد کیا کہ انتخابی نتائج کے بعد سینئر وزراء اور بااثر رہنما عام کارکنوں اور کونسلروں سے دور ہو گئے ہیں۔ چکرورتی نے کہا کہ ’’کئی سالوں تک ہم وزیر اعلیٰ تک بھی نہیں پہنچ سکے کیونکہ ان کے آس پاس کچھ لوگ دیوار بن کر کھڑے رہے۔ شکست کے بعد وہ لیڈران اب سڑکوں سے غائب ہو گئے ہیں۔‘‘

نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق دونوں ٹی ایم سی لیڈران نے انتخاب کے بعد بے گھر ہونے والے اپنے حامیوں کو محفوظ گھر واپس لانے کے لیے بی جے پی حکومت کی تعریف کی اور ان کا شکریہ ادا کیا۔ اس بیان کے بعد دونوں لیڈران کے تئیں جلد ہی پارٹی تبدیل کرنے کی قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں۔ اس کے علاوہ سشانت گھوش نے گزشتہ سال اپنے گھر کے باہر ان پر ہونے والے قاتلانہ حملے کا ذکر کرتے ہوئے پولیس تحقیقات پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے ریاست کے نئے وزیر اعلیٰ سویندو ادھیکاری سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ اور مناسب جانچ کو یقینی بنائیں۔

واضح رہے کہ ٹی ایم سی کے شہری قلعوں میں دراڑ پڑنے کا یہ سلسلہ کچھ دن پہلے ہی شروع ہو گیا تھا، جب کونسلر دیبولینا بسواس نے کے ایم سی کے بورو-9 کے صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ دیبولینا نے یہ قدم بھوانی پور اسمبلی سیٹ پر پارٹی کی انتہائی خراب کارکردگی کے بعد پیدا ہونے والے عدم اطمینان کی وجہ سے اٹھایا تھا۔ بھوانی پور کو کبھی ٹی ایم سی کا سب سے محفوظ گڑھ مانا جاتا تھا۔

ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر ذرائع کے حوالے سے شائع خبر کے مطابق ریاست میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد اب تک کم از کم 60 ٹی ایم سی کونسلرز مختلف بلدیات میں اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے چکے ہیں یا تنظیمی ذمہ داریوں سے دوری اختیار کر چکے ہیں۔ کئی کونسلرز نے دفتر آنا بھی بند کر دیا ہے، جس سے بلدیاتی اداروں کے کام کاج اور عوامی خدمات پر اثر پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی تک بلدیات اور میونسپل کارپوریشنز ٹی ایم سی کی سب سے مضبوط سیاسی طاقت رہے، لیکن اب وہی ڈھانچہ دباؤ میں نظر آ رہا ہے۔ مسلسل بڑھتے استعفوں اور رہنماؤں کی ناراضگی سے صاف اشارے مل رہے ہیں کہ پارٹی کا اندرونی بحران اب کھل کر سامنے آنے لگا ہے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...