اردو کے عاشق، متعدد زبانوں کے ماہر…سہیل انجم

AhmadJunaidJ&K News urduSeptember 28, 2025396 Views


یوم پیدائش پر خاص

کانگریس کی جانب سے پارٹی کے ہیڈکوارٹر میں سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے نام سے لائبریری کا قیام یقیناً ایک خوشگوار قدم اور سابق وزیر اعظم کو علمی خراج عقیدت ہے۔ اس لائبریری کا افتتاح کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئرپرسن سونیا گاندھی نے 26 ستمبر کو ان کے 93 ویں یوم پیدائش پر کیا۔ اس بات کی قوی امید ہے کہ اس لائبریری سے اہل علم استفادہ کریں گے اور اپنی علمی پیاس بجھائیں گے۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے اس سے بہتر کچھ بھی نہیں ہو سکتا تھا۔ وہ ایک صاحب علم تھے اور علم کے قدردان بھی تھے۔

ڈاکٹر منموہن سنگھ اردو سمیت کئی زبانوں کے ماہر تھے۔ وہ اپنی تقریریں اردو رسم الخط میں لکھتے تھے۔ یہاں تک کہ یوم آزادی پر لال قلعہ کی فصیل سے کی جانے والی تقریر بھی وہ اردو ہی میں لکھ کر لے جاتے تھے۔ وہ علامہ اقبال کے مداح تھے اور ان کے بہت سے اشعار اپنی تقریروں میں استعمال کرتے تھے۔ ان کی حکومت میں ایک بار پارلیمنٹ میں ہونے والی ایک بحث کے موقع پر خطابت میں ماہر سینئر بی جے پی رہنما سشما سوراج نے ان سے سوال کرتے ہوئے یہ شعر پڑھا کہ: تو ادھر ادھر کی نہ بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا، مجھے رہزنوں سے غرض نہیں سے تری رہبری کا سوال ہے۔ اس پر انھوں نے کھڑے ہو کر کہا کہ وہ سشما سوراج کی طرح خطابت میں ماہر تو نہیں ہیں لیکن وہ بھی ایک شعر سے ان کو جواب دینا چاہیں گے۔ انھوں نے علامہ اقبال کا یہ شعر پڑھا کہ: مانا کہ تری دید کے قابل نہیں ہوں میں، تو میرا شوق دیکھ مرا انتظار دیکھ۔ جب آخری دور میں ایک پریس کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں وہ خاموش رہے تو ایک صحافی نے ان سے پوچھا کہ آپ نے کوئی جواب نہیں دیا، آپ خاموش ہیں۔ اس پر انھوں نے کہا تھا: مرے جواب سے بہتر ہے میری خاموشی، نہ جانے کتنے سوالوں کی آبرو رکھ لی۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...