اپریل کے تیسرے ہفتہ میں پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے حدبندی (ڈیلمیٹیشن) سے متعلق تجاویز کے باعث پیدا ہونے والا فوری بحران اگرچہ ٹل گیا ہے، لیکن یہ صرف عارضی طور پر ٹلا ہے۔ 131ویں آئینی ترمیمی بل کی ناکامی اور اس کے نتیجے میں متعلقہ قوانین کے خاتمے سے وقتی راحت ضرور ملی ہے، لیکن اسے حتمی حل سمجھنا غلط ہوگا۔ دراصل حدبندی کا تنازعہ ابھی ختم نہیں ہوا بلکہ صرف مؤخر ہوا ہے۔ سطح کے نیچے ایک کہیں زیادہ اہم سیاسی طوفان زور پکڑ رہا ہے۔
اس معاملے کی سنجیدگی کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ حدبندی پر ہونے والی پچھلی بڑی مداخلت پر نظر ڈالی جائے۔ 2001 میں آئین کے آرٹیکل 81 میں ترمیم کے ذریعے مرکز نے 1971 کی مردم شماری کی بنیاد پر لوک سبھا نشستوں کی بین الریاستی تقسیم پر عائد پابندی کو مزید بڑھا دیا تھا۔ 25 سال کے لیے لگائی گئی یہ پابندی محض اتفاقی نہیں تھی بلکہ وفاقی توازن برقرار رکھنے کے لیے ایک سوچا سمجھا سیاسی سمجھوتہ تھا۔
اس کی منطق واضح تھی۔ جنوبی ہندوستان کی ریاستوں نے آبادی پر قابو پانے کی پالیسیوں کو کامیابی سے نافذ کیا تھا اور انہیں خدشہ تھا کہ صرف آبادی کی بنیاد پر نئی حدبندی ان کے لیے نقصاندہ ہوگی۔ کیرالہ، تمل ناڈو اور آندھرا پردیش جیسے صوبوں نے آبادی میں اضافے کو مستحکم کیا، انسانی ترقی میں سرمایہ کاری کی اور بہتر سماجی و معاشی نتائج حاصل کیے، جبکہ اتر پردیش اور بہار جیسے صوبوں میں آبادی کا شرح اضافہ زیادہ رہی۔ اس لیے جنوبی ریاستوں کو بجا طور پر اندیشہ تھا کہ آبادی کی بنیاد پر نشستوں کی نئی تقسیم پارلیمانی نمائندگی کو شمالی ریاستوں کے حق میں جھکا دے گی۔
2001 کی حدبندی نے ایک طرح سے ریاستوں کے اندر حدبندی کی اجازت دی، یعنی بین الریاستی نشستوں کی تقسیم کو برقرار رکھتے ہوئے حلقہ بندی کی اندرونی سرحدوں میں تبدیلی کی گئی۔ یہ ایک سیاسی مفاہمت تھی جسے مختلف پارٹیوں اور علاقوں کی وسیع حمایت حاصل تھی، اور جس میں اس بات کو تسلیم کیا گیا تھا کہ جمہوری انصاف کے ساتھ ترقیاتی مساوات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔
جس 131ویں ترمیمی بل کو مسترد کیا گیا، اس کا مقصد اسی طویل مدتی حفاظتی انتظام سے ہٹنا تھا۔ اگرچہ حکومت نے عوامی سطح پر جنوبی ریاستوں کو یقین دہانی کرائی کہ ان کی سیاسی اہمیت کم نہیں ہوگی، لیکن قانون سازی کی نیت کچھ اور ہی دکھائی دیتی تھی۔ مجوزہ تبدیلیاں آرٹیکل 81 کے حفاظتی ڈھانچے سے انحراف کا اشارہ دے رہی تھیں۔ سیاسی یقین دہانیوں اور قانون سازی کے ڈھانچے کے درمیان یہ تضاد نظر انداز نہیں ہوا اور اسی نے بل کے رکنے میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم بڑا مسئلہ اب بھی حل طلب ہے اور دراصل ایک آئینی وقت کی حد کے قریب پہنچ رہا ہے۔
2001 میں نشستوں پر عائد پابندی 2026 میں ختم ہونے والی ہے۔ اس کے بعد آئینی طور پر دوبارہ آبادی کی بنیاد پر نشستوں کی تقسیم کا نظام بحال ہو جائے گا، جو نئی مردم شماری کے اعداد و شمار پر مبنی ہوگا۔ لوک سبھا کے سابق سکریٹری جنرل پی ڈی ٹی آچاریہ کے مطابق اگر اس پابندی کو قانون کے ذریعے واضح طور پر نہ بڑھایا گیا تو یہ خود بخود ختم ہو جائے گی۔ اس کے دور رس نتائج ہوں گے۔ موجودہ آبادی کے اعداد و شمار کی بنیاد پر نئی حدبندی سے شمالی ریاستوں کی پارلیمانی نشستوں میں نمایاں اضافہ ہوگا، جبکہ جنوبی ریاستوں کا حصہ نسبتاً کم ہو جائے گا۔ یہ محض تکنیکی تبدیلی نہیں بلکہ ہندوستان کے جمہوری نقشے کی سیاسی بنیادوں پر ازسرنو تشکیل ہوگی۔
عملی پہلو بھی اتنا ہی اہم ہے۔ اس پابندی کو بڑھانے کے لیے آئینی ترمیم درکار ہوگی جس کے لیے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت ضروری ہے۔ تاہم اگر حکومت پابندی ختم ہونے دیتی ہے اور اس کے بعد حدبندی شروع کرتی ہے تو ایک سادہ قانون کے ذریعے عام اکثریت سے یہ عمل شروع کیا جا سکتا ہے، جس سے سیاسی رکاوٹ کافی کم ہو جاتی ہے۔ اس سے ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا مرکز اتفاق رائے کا راستہ اختیار کرے گا، یا سہولت کا؟
اس وقت تیلگو دیشم پارٹی نریندر مودی حکومت کی اتحادی ہے اور اشارے مل رہے ہیں کہ جنوبی ریاستوں کے دباؤ کے باعث حکومت کو پابندی بڑھانے کے لیے نئی ترمیم لانا پڑ سکتی ہے۔ یہ موجودہ توازن برقرار رکھنے کا سب سے سیدھا طریقہ ہوگا، لیکن یہ بھی مسئلے کا مکمل حل نہیں ہوگا۔ اصل تشویش اس بات پر ہے کہ حدبندی کس طرح کی جاتی ہے۔ آسام اور جموں و کشمیر میں حالیہ حدبندیوں نے اس عمل کی غیر جانبداری پر سوال اٹھا دیے ہیں۔ اصولاً یہ ایک تکنیکی اور غیر جانب دار عمل ہونا چاہیے، جس کی بنیاد جغرافیائی تسلسل، انتظامی ہم آہنگی اور مساوی نمائندگی ہو، لیکن عملی طور پر یہ اصول اکثر سیاسی مفادات کے تابع ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر آسام میں حالیہ حلقہ بندی کے دوران دریاؤں، پہاڑوں اور قدرتی حدود کو نظر انداز کیا گیا، جس سے حلقے بے ترتیب اور غیر مربوط دکھائی دیے۔ بعض صورتوں میں اقلیتی علاقوں کی حدبندی اس طرح کی گئی کہ ان کی انتخابی حیثیت بدل گئی۔
کریم گنج اسمبلی حلقہ اس کی نمایاں مثال ہے، جہاں بعض علاقے دوسرے حلقوں کے اندر جزیرے کی طرح موجود ہیں اور جغرافیائی تسلسل کا فقدان ہے۔ یہ اس بنیادی اصول کے خلاف ہے کہ انتخابی حلقے مربوط اور مسلسل ہونے چاہئیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تسلسل، ہم آہنگی اور جامعیت بنیادی اصول ہیں، ان کی خلاف ورزی نیت پر سوال اٹھاتی ہے۔ آسام اور کسی حد تک جموں و کشمیر میں جو کچھ ہوا، وہ روایتی ’گیری مینڈرنگ‘ سے بھی آگے کی چیز معلوم ہوتی ہے۔ یعنی انتخابی حدود کو کسی خاص سیاسی فائدے کے لیے توڑ مروڑ کر ترتیب دینا۔
روایتی طور پر انتخابی حلقوں کی ہیرا پھیری 2 طریقوں سے ہوتی ہے: ’پیکنگ‘ اور ’کریکنگ‘۔ ’پیکنگ‘ میں اپوزیشن ووٹرز کو کچھ ضلعوں میں مرکوز کر دیا جاتا ہے، جبکہ ’کریکنگ‘ کے ذریعہ انھیں کئی اضلاع میں پھیلا دیا جاتا ہے۔ لیکن حالیہ مثالیں اس سے بھی زیادہ جارحانہ شکل دکھاتی ہیں، جہاں جغرافیائی بگاڑ کو آبادیاتی تبدیلی کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے۔ اگر آئندہ قومی سطح پر بھی یہی طریقہ اپنایا گیا تو اس کے نتائج نہایت دور رس ہوں گے۔ اسی لیے موجودہ سکوت کو حل نہیں سمجھنا چاہیے۔ 131ویں ترمیمی بل کی ناکامی نے صرف ایک بڑے تصادم کو مؤخر کیا ہے۔
اس وقت ہندوستان ایک دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ نئے وفاقی سمجھوتے کی طرف جاتا ہے، جہاں مساوات، نمائندگی اور علاقائی توازن کو باہمی اتفاق سے حل کیا جائے۔ دوسرا راستہ یکطرفہ سیاسی نقشہ سازی کی طرف جاتا ہے، جہاں ہم آہنگی کے بجائے محض عددی حساب کو ترجیح دی جاتی ہے۔ یعنی طوفان ابھی ٹلا نہیں، بلکہ مزید شدت اختیار کر رہا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




































