آبنائے ہرمز کے قریب فوجی سرگرمیاں تیز، غزہ-لبنان میں حملے جاری

AhmadJunaidJ&K News urduApril 24, 2026358 Views


لبنان میں جنگ بندی کو تین ہفتے بڑھانے کے باوجود خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔ آبنائے ہرمز میں فوجی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور امریکی محاصرہ جاری ہے۔ غزہ میں انسانی بحران مزید گہرا ہو رہا ہے، جبکہ جنوبی لبنان اور مغربی کنارے پر اسرائیلی کارروائیاں جاری ہیں۔

لبنان کے دارالحکومت بیروت کے دہیہ علاقے میں 18 اپریل 2026 کو نائی محمد مہدی اپنے گاہک ایمن الزین کے بال کاٹتے ہوئے۔ یہ دکان اسرائیلی فضائی حملے میں متاثر ہوئی تھی۔ (فوٹو: اے پی/پی ٹی آئی)

نئی دہلی: ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے 56 ویں دن بھی حالات انتہائی پیچیدہ بنے ہوئے ہیں۔ ایک طرف جنگ بندی کو آگے بڑھانے اور سفارتی اقدامات کی بات ہو رہی ہے، تو دوسری طرف فوجی سرگرمیاں، سمندری جھڑپیں اور زمینی حملے اس بحران کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔

جنگ بندی میں توسیع، مگر دباؤ اور غیر یقینی برقرار

الجزیرہ کے مطابق، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے لبنان کے ساتھ جنگ بندی کو تین ہفتوں کے لیے بڑھانے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ جلد اسرائیل اور لبنان کے رہنماؤں کی میزبانی کرنا چاہتے ہیں۔

تاہم، انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے حوالے سے ان پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔ ان کے بیان،’ میرے پاس وقت ہے، ایران کے پاس نہیں‘، اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مذاکرات کے ساتھ ساتھ دباؤ کی پالیسی جاری رہے گی۔

ایران پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ جب تک بندرگاہوں کا محاصرہ ختم نہیں ہوتا، مذاکرات دوبارہ شروع نہیں ہوں گے۔

سمندر میں کشیدگی اور فوجی سرگرمیاں تیز

مغربی ایشیا میں فوجی سرگرمیاں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ امریکہ کا تیسرا طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش خطے میں پہنچ گیا ہے، جو پہلے سے تعینات یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ اور یو ایس ایس ابراہم لنکن کے ساتھ مل کر ایک بڑی بحری قوت کا حصہ بن گیا ہے۔

اسی دوران، ٹرمپ نے امریکی افواج کو حکم دیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگ بچھانے کی کوشش کرنے والی کسی بھی ایرانی کشتی کو’دیکھتے ہی گولی مار دی جائے‘۔

ایران نے کچھ’دوست ممالک‘کو اس آبی راستے سے گزرنے کے لیے فیس میں چھوٹ دی ہے، جن میں روس بھی شامل ہے۔

غزہ میں انسانی بحران مزید سنگین

غزہ میں حالات بدستور خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق، 5,000 سے 6,000 افراد کے اعضا کاٹنے پڑے ہیں، جن میں بڑی تعداد بچوں کی ہے۔

طبی آلات اور مصنوعی اعضا کی شدید کمی ہے، کیونکہ فروری 2025 سے اسرائیل نے ان کی فراہمی پر  روک  لگارکھی ہے۔

صورتحال یہ ہے کہ ہزاروں لوگ علاج اور بحالی کے بغیر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جبکہ خطے میں ماہرین کی تعداد بھی نہایت کم ہے۔

مغربی کنارے اور لبنان میں کارروائیاں جاری

مغربی کنارے(ویسٹ بینک) کے شہر نابلس میں اسرائیلی فوج نے صبح سویرے چھاپہ مار کر تین فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا، جن میں دو بھائی شامل ہیں۔ دوسری جانب، لبنان میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملے جاری ہیں۔ جنوبی لبنان کے کئی علاقوں میں فضائی حملوں اور گولہ باری کی اطلاعات ہیں۔

لبنان کی پارلیامنٹ کے اسپیکر نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل اس کی سرزمین پر برقرار رہا تو اس سے مزاحمت میں اضافہ ہوگا۔ حزب اللہ بھی مسلسل جوابی کارروائی کی بات کر رہا ہے، جس سے واضح ہے کہ جنگ بندی انتہائی نازک مرحلے میں ہے۔

مجموعی طور پر 56ویں دن کی صورتحال واضح کرتی ہے کہ جنگ بندی محض رسمی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ سمندر میں کشیدگی، زمینی حملے، غزہ میں انسانی بحران اور سیاسی عدم اعتماد،یہ سب اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ بحران ابھی ختم ہونے والا نہیں۔

سفارتی کوششیں جاری ہیں، مگر ان کی کامیابی کے امکانات فی الحال انتہائی غیر یقینی معلوم ہوتے ہیں۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...