
ادھو اور راج ٹھاکرے طویل عرصے بعد ایک ساتھ کسی سرکاری میٹنگ میں نظر آئے۔ وفد نے وزارت (ریاستی سیکریٹریٹ) میں الیکشن افسر سے ملاقات کے دوران ووٹر لسٹ میں غلط اندراجات اور ناموں کی دہری شمولیت جیسے معاملات کو اجاگر کیا۔ اپوزیشن رہنماؤں نے زور دیا کہ اگر ان خامیوں کو دور کیے بغیر بلدیاتی انتخابات کرائے گئے تو عوامی مینڈیٹ پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔
وفد میں کانگریس، لیفٹ محاذ، شیتکاری کامگار پکش اور سماجوادی پارٹی کے نمائندے بھی شامل تھے۔ این سی پی (ایس پی) کے رہنما جینت پاٹل نے ملاقات کے بعد کہا کہ ریاست کے مختلف علاقوں میں ووٹر لسٹ میں بے شمار غلطیاں ہیں۔ ان کے مطابق کئی مقامات پر ایک ہی مکان کے پتے پر 170 ووٹر درج ہیں، جو انتخابی عمل میں بڑی گڑبڑی کی علامت ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلدیاتی انتخابات سے قبل ان خامیوں کو درست کیا جائے تاکہ ووٹروں کا اعتماد بحال رہے۔






