
مولانا ابراہیم دیوبند سے واپس آئے تو ان کی دنیا اجڑ گئی۔ ان کی آنکھوں میں آنسو خشک ہو گئے ا۔ انہوں نے کہا، “میری بیٹی نے کچھ دیر پہلے مجھے میسج کیا تھا، ‘ابا، ریحان جیسا کھلونا لے آؤ۔’ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ وہی ریحان میری بیٹیوں کی جان چھین لے گا، جس مسجد میں قرآن کی آواز گونجتی تھی، وہاں کی دیواریں آج بھی گواہی دیتی ہیں کہ ایک نافرمان شاگرد نے اپنے استاد کی دنیا کو کس طرح تباہ کر دیا۔ (انپٹ نیوز پورٹل’آج تک‘)






