
ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ گزشتہ 11 سالوں میں مودی حکومت نے اس قانون کو منظم طریقے سے کمزور کیا ہے، جس کے نتیجے میں جمہوریت اور شہریوں کے حقوق متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس حوالے سے متعدد مثالیں پیش کیں۔
انہوں نے بتایا کہ 2019 میں مودی حکومت نے حق اطلاعات قانون میں ایسی ترامیم کیں جن سے انفارمیشن کمشنرز کے عہدے اور تنخواہوں پر کنٹرول حاصل کر کے ان کی آزادی محدود کر دی گئی، جس سے یہ آزاد نگرانی کے ادارے سرکاری ہدایات کے تابع ہو گئے۔






