
واضح رہے کہ 23 ستمبر کو جیل سے ضمانت پر رہا ہونے کے پہلے ہی روز انتظامیہ نے ان کے پاس سیکورٹی اہلکار بھیجے تھے، لیکن انہوں نے سیکورٹی لینے سے انکار کر دیا تھا۔ اس وقت ان کے گھر پہنچے گارڈز اور گنرز کو واپس پولیس لائن بھیج دیا گیا تھا۔ حالانکہ اس بار انہوں نے سیکورٹی قبول کر لی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ جیل سے رہا ہونے کے بعد سے ہی ان کے گھر پر ملنے والوں کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا وہ اب بھی جاری ہے۔ ان سے ملنے والوں میں عام و خاص سب شامل ہیں۔ گزشتہ دنوں اترپردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو بھی اعظم خان سے ملنے ان کے گھر گئے تھے۔ اکھلیش یادو کے علاوہ سوامی پرساد موریہ سمیت کئی بڑے لیڈران بھی ان سے ملنے ان کے گھر جا چکے ہیں۔






