
انہوں نے بتایا، ’’فی الحال کمرشل رینڈم نمبر جنریٹرز مکمل طور پر تصدیق شدہ نہیں ہیں، اس لیے ان میں خطرہ رہتا ہے۔ ہمارا مقصد ایک ایسا نظام لانا ہے جس کے ساتھ نظریاتی طور پر بھی کوئی چھیڑ چھاڑ ممکن نہ ہو۔‘‘ پروفیسر اربسی سنہا کو یقین ہے کہ نئی ٹیکنالوجی کے استعمال سے اگرچہ ڈیوائسز میں کچھ تبدیلیاں کرنی پڑیں گی مگر موبائل فون کے بنیادی ڈھانچے کو نہیں بدلنا پڑے گا۔
اور اگر ہیکرز اس نظام کو توڑنے کی کوشش کریں؟ اس سوال پر پروفیسر انِندا سنہا نے کہا، ’’یہی کوانٹم فزکس کی طاقت ہے۔ اگر کوئی دوسرا آلہ بھی بنا لے، تو وہ کسی اور تصدیق شدہ یونٹ سے رینڈم نمبروں کا اندازہ نہیں لگا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ٹیکنالوجی تقریباً ناقابلِ ہیک ہوگی۔‘‘
(مآخذ: بی بی سی ہندی)






