
اس واقعے پر مختلف میڈیا اداروں کی خواتین رپورٹرز نے سوشل میڈیا پر اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ وہ پریس کانفرنس کے مقام پر پہنچی تھیں مگر انہیں اندر جانے سے روک دیا گیا۔ کئی صارفین نے کہا کہ تمام خواتین صحافی ڈریس کوڈ کا احترام کر رہی تھیں، اس کے باوجود انہیں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔
شدید تنقید کے بعد ہندوستان کی وزارتِ خارجہ (ایم ای اے) نے اپنا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ افغان وزیرِ خارجہ کی پریس کانفرنس میں خواتین صحافیوں کو نہ بلانے کے فیصلے میں وزارت کا کوئی کردار نہیں تھا۔ وزارت نے بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ صرف اور صرف پریس کانفرنس کے منتظمین نے کیا تھا اور ایم ای اے کی کوئی مداخلت نہیں تھی۔





