بھوپال: مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔ گشت پر مامور پولیس نے بیچ سڑک پر ہی بری طرح مارا پیٹا۔ جس کے بعد اس کی موت ہو گئی۔ متوفی کی شناخت انجینئرنگ کے طالب علم اُدت گائکے (22سال) کے طور پر ہوئی ہے، جو بالا گھاٹ میں تعینات ایک ڈی ایس پی کا برادر نسبتی ہے۔ اس غیر انسانی واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظر عام پر آ گئی ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق ادت کو سڑک کے کنارے کھڑا کر کے پہلے کپڑے اتروائے گئے، پھر جسم پر لاٹھیاں برسائی گئیں۔ اس دوران پولیس کی لاٹھی تک ٹوٹ گئی۔ بتا دیں کہ واقعہ کے وقت اُدت اپنے دوستوں اکشت اور دیپیش کے ساتھ کار میں بیٹھا تھا جبکہ دوسری کار میں روہن، آدتیہ اور دیگر ساتھی تھے۔
جیسے ہی پولیس پہنچی ادت گھبرا کر کار سے اترا اور بھاگنے لگا۔ پولیس اہلکاروں نے تقریباً 100 میٹر تک اس کا پیچھا کر کے اسے پکڑ لیا اور سرعام پٹائی شروع کر دی۔ کہا جا رہا ہے کہ دوستوں نے مداخلت کرتے ہوئے معاملہ پرسکون کرنے کی کوشش کی تو پولیس اہلکار نے 10 ہزار روپے رشوت طلب کر لی۔ دوستوں کے مطابق ادت کی سانسیں نہیں چل رہی تھیں۔ بھوپال واقع ایمس پہنچنے پر ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ ادت کے جسم پر شدید چوٹوں کے نشانات پائے گئے ہیں۔ ادت نے حال ہی میں سیہور کے وی آئی ٹی کالج میں انجینئرنگ کی تعلیم پوری کرنے کے بعد دو ماہ سے بنگلورو میں رہ رہا تھا۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ادت پوری طرح صحت مند تھا اور اس کی موت پولیس کی مار پیٹ سے ہوئی۔
اس سلسلے میں زون 2 کے ڈی سی پی وویک سنگھ نے بتایا کہ فی الحال اُدت کے ساتھ ارپیٹ کرنے والے دونوں کانسٹیبلوں کو معطل کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان کی موت کی وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی واضح ہوسکے گی۔ اگر پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ چوٹ کی وجہ موت ہوئی تو متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ معاملے میں شفافیت برقرار رکھنے کے لیے ڈاکٹروں کا ایک پینل تشکیل دیا گیا ہے اور پوسٹ مارٹم کی ویڈیوگرافی کی جا رہی ہے۔
اس دوران متوفی اُدت گائکے کے ماموں یوگیش گاونڈے نے پولیس پر سنگین الزامات لگائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ادت ہمارا اکلوتا بھانجا تھا۔ اسے ہم نے بہت لاڈو پیارسے پالا تھا،، اس کی ایسی موت کسی کو دیکھنا نہ پڑے۔ انہوں نے کہا کہ مجرموں کو پھانسی کی سزا ملنی چاہیے۔ اہل خانہ کا الزام ہے کہ پولیس نے واقعہ کو چھپانے کی کوشش کی لیکن سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آنے کے بعد پوراسچ اجاگرہوگیا ہے۔ پولیس اب اس معاملے کی ہر زاویے سے تفتیش کرنے کی بات کہہ رہی ہے جس میں مبینہ وصولی والے پہلو کی جانچ ہوگی۔ فی الحال اس پورے معاملے نے محکمہ پولیس کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ بھوپال پولیس کی یہ بربریت اب سرخیوں میں ہے اور لوگ سوشل میڈیا پربھی انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔































