
انہوں نے کہا تھا کہ جب تک ہمارے پاس حراست میں لئے جانے کے حکم کی کاپی نہیں ہوگی، ہم اسے عدالت میں چیلنج نہیں کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ انہوں نے اہلیہ سونم کی ملاقات کرائے جانے کی مانگ کی تھی۔ اس پر بنچ نے کہا تھا کہ ابھی تک ایسی کوئی درخواست ہی نہیں ہے تو اس پر فیصلہ کیسے دے سکتے ہیں۔ نیز پہلے آپ ملاقات کی درخواست کریں اور پھر نامنظور ہو تو کورٹ میں آئیں۔
واضح رہے کہ 24 ستمبر کو لداخ میں تشدد پھوٹ پڑا تھا۔ اس تشدد میں 4 لوگوں کی موت ہو گئی تھی اور تقریباً دو درجن کے قریب زخمی ہوئے تھے۔ اس تشدد کے دوران ناراض لوگوں نے بی جے پی کے دفتر کے ساتھ کئی پولیس اہلکاروں پر بھی حملہ کیا گیا تھا۔





