
جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ پیلی مٹر پر کسٹم ڈیوٹی کی چھوٹ اب مارچ 2026 تک بڑھا دی گئی ہے، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کسانوں کے مفاد کے بجائے بڑے کارپوریٹ گروپوں کے فائدے کے لیے کام کر رہی ہے۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’آتم نربھر بھارت‘ کا نعرہ اب ’مودانی نربھر بھارت‘ میں بدل چکا ہے، کیونکہ حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کا فائدہ صرف چند چنے ہوئے صنعتکاروں کو ہو رہا ہے، جب کہ کروڑوں کسان نقصان اٹھا رہے ہیں۔
جے رام رمیش کے اس بیان کے بعد کانگریس کے کئی رہنماؤں نے بھی مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پیلی مٹر پر کسٹم ڈیوٹی دوبارہ عائد کرے، تاکہ ہندوستانی کسانوں کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔





