
قاسم خورشید کا تخلیقی سفر دوران تعلیم شاعری سے ہی شروع ہوگیا تھا ۔ تب وہ ” جعفر ” یا ” کیو ۔کے جعفر ” کے نام سے شاعری کرتے تھے ۔ ابتدائی دور کی انکی شاعری میں بھی پختہ کاری نظر آتی ہے۔
پھولوں کی خامشی سے ظاہر یہ ہورہا ہے
کہ اس چمن کا مالی پھر خار بو رہا ہے۔
۔۔۔۔۔
آواز دے رہا ہے پورب سے پھر سویرا
اپنا شریر سورج دریا میں دھورہا ہے
۔۔۔۔
یہ تنکا زمیں پر سے اٹھ جائےگا
کہ چڑیا کہیں گھر بسانے کو ہے
۔۔۔
انہوں نے نہایت آسان مگر شستہ زبان میں شاعری کی۔
رشتوں کا بازار ملے گا۔
جو چاہو کردار ملےگا۔
سکھ میں تیرے ساتھ رہیں گے
اور دکھ میں بیزار ملے گا۔
۔۔
دل کی جب نادانی لکھنا
پیار، محبت، پانی لکھنا
بزم سے انکی واپس آکر
دریا، آنکھ، روانی لکھنا
جب آنکھوں میں آنسو آئے
میری ایک کہانی لکھنا
۔۔






