
اسرائیل زور دے کر کہتا ہے کہ اس کا غزہ پر قبضے کا کوئی منصوبہ نہیں، بلکہ وہ غیر معینہ مدت تک سکیورٹی کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور شہری انتظام دوسروں کو سونپنا چاہتا ہے۔ یہ دراصل ایک ’جعلی قبضہ‘ ہے! اس کا اصل مقصد واضح ہے: غزہ کی آبادیاتی ساخت کو ہمیشہ کے لیے بدل دینا، فلسطینی علاقوں کو تقسیم کرنا اور فلسطینی خودمختاری کو ایک خواب بنا دینا۔ اس دوران، مغربی کنارے پر اسرائیل نے بستیوں کی تعمیر کو دوگنا کر دیا ہے اور پابندیاں سخت کر دی ہیں، جس سے علاقہ مؤثر طور پر دو حصوں میں تقسیم ہو گیا ہے۔ ایلنبی کراسنگ، جو فلسطینیوں کے لیے بیرونی دنیا سے جڑنے کا واحد زمینی راستہ تھا، اگلی اطلاع تک بند کر دیا گیا ہے۔
غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس پر اب بحث کی گنجائش نہیں رہی۔ دنیا اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ: یہ بھوک سے مارنے، تباہی پھیلانے کی ایک منصوبہ بند کارروائی ہے، یہ نسل کشی ہے اور نسل کشی کنونشن کے تحت اس کے تمام دستخط کنندہ ممالک پر لازم ہے کہ وہ اسے روکنے کے لیے جو کچھ کر سکتے ہیں، کریں۔
(مضمون نگار اشوک سوین، سویڈن کی اوپسلا یونیورسٹی میں امن اور تنازعہ کی تحقیق کے پروفیسر ہیں)



