
راہل گاندھی نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ہندوستان دنیا کو بہت کچھ دے سکتا ہے، لیکن ہندوستانی ڈھانچے میں کچھ خامیاں ہیں، کچھ جوکھم ہیں، جن سے ہندوستان کو پار پانا ہوگا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’سب سے بڑا جوکھم جمہوریت پر ہو رہا حملہ ہے۔ جمہوریت میں الگ الگ روایات، مذاہب اور نظریات کو جگہ دینے کی ضرورت ہوگی ہے، لیکن اس وقت ہندوستان میں جمہوری نظام پر زبردست حملہ ہو رہا ہے۔‘‘ انھوں نے چین کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم وہ نہیں کر سکتے جو چین کرتا ہے۔ لوگوں کو دبانا اور ایک تاناشاہی نظام چلانا ہندوستان کا ڈھانچہ قبول نہیں کرے گا۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’ہندوستان کو دیکھا جائے تو وہ چین کا پڑوسی اور امریکہ کا بڑا شراکت دار ہے۔ ہم ٹھیک اس جگہ پر بیٹھے ہیں جہاں دونوں طاقتیں آپس میں ٹکرا رہی ہیں۔‘‘






