
انہوں نے اپنے خطاب میں ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کی کہ وہ تنظیم، جو آج اپنا صد سالہ جشن منانے میں مصروف ہے، اسی آئین کی مخالف رہی تھی۔ اگرچہ جے رام رمیش نے تنظیم کا نام براہِ راست نہیں لیا لیکن ان کا اشارہ آر ایس ایس کی جانب ہی سمجھا گیا۔ ان کے مطابق کانگریس نے آزادی اور آئین کے حق میں تاریخی کردار ادا کیا، جبکہ کچھ طاقتیں اس وقت آئینی عمل کی راہ میں رکاوٹ بننے کی کوشش کر رہی تھیں۔
جے رام رمیش نے اس موقع پر ایک اہم کتاب ’کنسٹیٹونٹ اسمبلی اینڈ آور ڈیمانڈ‘ کا ذکر بھی کیا۔ یہ کتاب جے گوپال نارنگ نے تحریر کی تھی اور اس کا پیش لفظ پنڈت جواہر لال نہرو نے لکھا تھا۔ نہرو اس وقت آئین ساز اسمبلی کے سب سے بڑے حامیوں میں شمار ہوتے تھے اور قریب ایک دہائی تک اس مطالبے کو مسلسل اٹھاتے رہے۔ رمیش نے کہا کہ یہ کتاب اور نہرو کا پیش لفظ آج بھی اس جدوجہد کی یاد تازہ کر دیتا ہے۔






