
نریش ملہوترا نے بتایا کہ وہ جولائی میں ایک سرجری کے بعد گھر پر آرام کر رہے تھے کہ یکم اگست کو شام تقریباً چار بجے انہیں ایک خاتون کا فون آیا۔ اس نے خود کو ایک بڑی ٹیلی کام کمپنی کے ہیڈکوارٹر سے بتایا اور دعویٰ کیا کہ ان کا لینڈ لائن نمبر ’کمپرومائز‘ ہو گیا ہے۔ مزید یہ کہ ان کے نام پر ممبئی کے بائیکلہ علاقے میں جعلی بینک کھاتے کھولے گئے ہیں، جن کا استعمال پلوامہ دہشت گردی کیس میں 1300 کروڑ روپے کی فنڈنگ کے لیے ہوا ہے۔ خاتون نے دھمکی دی کہ این آئی اے ایکٹ کے تحت انہیں گرفتار کیا جائے گا اور شام تک ان کی جائیداد ضبط کر لی جائے گی۔
کال کرنے والی نے انہیں ویڈیو پر جوڑ دیا لیکن خود کبھی سامنے نہیں آئی۔ پھر ایک شخص کی تصویر دکھائی گئی اور کہا گیا کہ یہ 1300 کروڑ کا فراڈ کر چکا ہے، کیا آپ اسے جانتے ہیں؟ اس کے بعد ملہوترا سے ذاتی اور مالی تفصیلات مانگی گئیں—جیسے بینک کھاتے، ایف ڈی، لاکرز، شیئرز اور جائیداد کی معلومات۔ یہاں تک کہ ان کے گھر کے کمرے اور نوکر تک کے بارے میں پوچھا گیا۔





