
یہ عبوری حکومت اگلے عام انتخابات تک رہے گی، جو 5 مارچ 2026 کو شیڈول ہیں۔ نیپال کی پہلی خاتون چیف جسٹس کے طور پر خدمات انجام دینے والی سوشیلا کارکی کا انتخاب مظاہرین اور مختلف اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت کے بعد کیا گیا۔ ان کی تقرری سے ملک میں انسداد بدعنوانی اور گڈ گورننس کے مطالبات کو تقویت ملی ہے۔ عبوری حکومت کو معاشی چیلنجوں کا سامنا ہے، جن میں نیپال میں امن و امان کی بحالی، پرتشدد مظاہروں کے دوران بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کی مرمت اور سرکاری عمارتوں کی تعمیر نو شامل ہیں۔






