
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اب عوام کے لیے 2.5 لاکھ کروڑ روپے کے ’بچت کے جشن‘ کی بات کر کے محض ایک معمولی بینڈ ایڈ لگا رہی ہے، جبکہ اصل میں دال، چاول، اناج، پنسل، کتابیں، علاج اور کسانوں کے ٹریکٹر پر بھی جی ایس ٹی وصول کیا گیا۔ کھڑگے نے حکومت سے عوام سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔
دریں اثنا، کانگریس رہنما جے رام رمیش نے بھی وزیر اعظم نرندر مودی کے خطاب پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ کہا کہ جی ایس ٹی اصلاحات کے تمام کریڈٹ کو خود پر منسوب کرنا غیر مناسب ہے۔ رمیش نے واضح کیا کہ جی ایس ٹی دراصل ایک ترقی روکنے والا ٹیکس ہے، جس میں متعدد مسائل موجود ہیں جیسے زیادہ ٹیکس سلیب، روزمرہ اشیاء پر بھاری شرحیں، چوری اور غلط درجہ بندی، اور پیچیدہ رسمی کارروائیاں۔






