
گزشتہ دنوں جب اسرائیل نے حماس کی قیادت پر حملے کی آڑ میں قطر پر حملہ کیا تو دنیا میں ہنگامہ برپا ہو گیا۔ قطر تو سیزفائر، جنگ بندی اور اسرائیل و حماس کے درمیان سمجھوتے کے لیے ثالثی کے فرائض انجام دے رہا تھا اور جس وقت حملہ ہوا حماس کی قیادت اس سلسلے میں دوحہ میں ایک مٹینگ میں مصروف تھی۔ لہٰذا اس حملے کے بعد خلیجی ملکوں میں اضطراب کی لہریں دوڑ گئیں۔ 1945 میں قائم ہونے والی 22 رکنی عرب لیگ میں بھی ہلچل مچ گئی اور دوحہ میں اس کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا۔ اس اجلاس پر پوری دنیا کی نظریں لگی ہوئی تھیں۔ ایسا سمجھا جا رہا تھا کہ اسرائیل کے خلاف کوئی سخت فیصلہ کیا جائے گا۔ ممکن ہے کہ اسرائیل پر کوئی چھوٹا موٹا حملہ کرنے کا اعلان کر دیا جائے۔ لیکن بڑے ہی طمطراق سے منعقد ہونے والا اجلاس ٹائیں ٹائیں فش ہو گیا۔ ان عرب ملکوں نے یہ دکھا دیا کہ :
نہ خنجر اٹھیں گے نہ تلوار ان سے
یہ بازو مرے آزمائے ہوئے ہیں
اس اجلاس کا جو نتیجہ نکلا اس نے 1973 کے مذکورہ واقعے کی یاد دلا دی۔






