
سوربھ بھاردواج نے ہریانہ کے سابق وزیر اعلیٰ اور مرکزی وزیر منوہر لال کھٹر کے بیان پر بھی ردعمل ظاہر کیا، جس میں انہوں نے کہا کہ دہلی کو پانی دریائے سندھ سے ملے گا۔ سوربھ بھاردواج نے کہا کہ دہلی کے شہریوں کو فی الحال ہریانہ سے پانی فراہم ہونا چاہیے لیکن حکومت ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سندھ سے پانی کبھی آئے بھی تو ہریانہ اسے لے لے لیکن دہلی والوں کے لیے فوری حل ہریانہ کی جانب سے پانی فراہم کرنا ہے۔
سوربھ بھاردواج نے اس موقع پر انتخابی شفافیت، شہری سہولیات اور بیرون ملک ملازمت کرنے والے پیشہ ور افراد کے مسائل پر حکومت اور الیکشن کمیشن کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے زور دیا کہ ووٹ چوری کے گھوٹالہ پر فوری اور شفاف تحقیقات ہونی چاہیے تاکہ جمہوری عمل پر عوام کا اعتماد برقرار رہے۔





