
اس معاملے کی سماعت چیف جسٹس شری چندر شیکھر اور جسٹس گوتم انکھڈ کی بنچ نے کی۔ عرضی گزار کے وکیل دیپیش سیرویا نے دلیل دی کہ فلم کے ایک گانے اور منظر میں نہ صرف وکلاء بلکہ ججوں کا بھی مذاق اڑایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلم کے ایک سین میں ججوں کو ’مامو‘ کہا گیا ہے جو عدلیہ کے احترام کے خلاف اور توہین آمیز رویہ ہے۔
تاہم عدالت نے ان دلائل کو سننے کے بعد عرضی خارج کرتے ہوئے کہا کہ اس پر کسی قسم کی روک لگانے کی ضرورت نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے، ’’پہلے دن سے ہی ہمارا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ ہماری فکر مت کیجیے، ہمیں اس کی عادت ہے۔‘‘ عدالت نے یہ بھی کہا کہ محض طنز یا مذاق کی بنیاد پر فنکارانہ آزادی کو محدود نہیں کیا جا سکتا۔





